حضرت میمونہ صوفیہ صاحبہؓ — Page 14
استانی میمونه صوفیه 14 میری پیاری اماں جی کو اگر عالم باعمل کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا کچی سے پیار تھا ، بچ کہتے ہوئے ڈرتی نہ تھیں خواہ کوئی بھی ہو۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ایک دفعہ ہماری فیملی ملاقات میں خصوصاً مجھ سے کہا کہ ”آپ اس نانی کی نواسی ہیں جو خلیفہ وقت کے سامنے بھی حق کہتے ہوئے کبھی نہیں گبھرا ئیں اور جن کے سامنے بات کرتے ہوئے مجھے بھی علم ہوتا ہے کہ اگر انجانے میں بھی کوئی غلطی ہو گئی تو استانی جی اس 66 کی نشاندہی ضرور کر دیں گی۔“ آپ کی بیچ بولنے کی بے باکی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لئے تھی نہ کہ تنقید کے لئے۔خلافت اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت اور عقیدت انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ہم سب بچوں کو بار بار خواتین مبارکہ سے ملوا تیں۔اماں جی کو صاحبزادی امتہ الرشید بیگم صاحبہ بنت حضرت مصلح موعود کی رضائی والدہ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔خدا تعالیٰ کے فضلوں نے ان کو ہر دم عاجزی و انکساری میں بڑھایا۔آپ میں ثابت قدمی اور تو کل الی اللہ بھی بہت تھا۔ایک موقعہ پر جب بچپن میں آپ کے اکلوتے بیٹے غلام احمد عطا سخت بیمار ہو گئے اور بچنے کی کوئی امید نہ رہی تو آپ نے خواب میں دیکھا