حضرت میمونہ صوفیہ صاحبہؓ — Page 13
استانی میمونه صوفیه ہیں کہ :۔13 آپ کی نواسی بشری سمیع صاحبہ آپ کے بارے میں لکھتی میں نے جب سے ہوش سنبھالا اماں جی کو لجنہ کے سلسلہ میں دوروں پر جاتے دیکھا، ایسے ہی ایک موقعہ پر میں بھی ان کے ساتھ تھی۔ضلع فیصل آباد کی ایک دیہاتی مجلس میں ہم پہنچے ، وہاں ہمارا بہت محبت سے استقبال ہوا۔اماں جی نے سب عورتوں اور بچیوں کو نماز اور قرآن شریف کی تلاوت کی تلقین کی۔عورتوں کے مسائل بھی سنے اور پھر تمام رات اپنی عبادت میں ان کے لئے دعا گو رہیں دینی تربیت کے ساتھ ساتھ دنیاوی تربیت کے ہر پہلو پر آپ گہری نظر رکھتیں۔یتیم بچیوں کو تعلیم دلوا کر ہر وقت شادیاں کروانے کا اماں جی کو جنون تھا۔مستحقین کے مطالبات اپنی توفیق سے بڑھ کر پورے کرتیں اور ہم بچے، بچیوں کو بھی اس کارِ خیر میں حصہ لینے کی ترغیب دیتیں اور برملا کہتی تھیں کہ میں مستحق کا نام پتہ نہیں بتاؤں گی کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ اُس کی نظر تم لوگوں کے سامنے نیچی ہو۔یوں ہی مدد کر سکتے ہو تو کرو، ورنہ اللہ مالک ہے پھر مدد کا انداز بھی ایسا پیارا کہ دائیں ہاتھ کو دیتیں تو بائیں ہاتھ کوخبر نہ ہوتی۔