مذہب کے نام پر فسانہ — Page 82
//////// ۱۸۔تذکرۃ الرشید ص ۷۳ ۷۹ ( مولفہ الحاج محمد عاشق الہی صاحب ناشر مکتبہ عاشقیہ میرٹھ طبع دوم ) ان تاریخی حقائق کے برعکس "مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کی غدر ۱۸۵۷ء کے تعلق میں ان بزرگوں کی قلمی تصویر ملاحظہ ہو۔لکھا ہے ” ۱۸۵۷ء کا معرکہ کارزار گرم ہوا۔فکر ولی اللہ کے عملی وارث علماء دیوبند کے موسس اعلیٰ قطب الاقطاب حضرت حاجی امداد اللہ صاحب، حضرت مولانا قاسم نانوتوی اور حضرت مولانا گنگوہی کی قیادت میں مسلمانان ہند نے انگریز کے توپ و تفنگ کا مقابلہ کیا اور اکثر بزرگوں نے جام شہادت نوش کیا رو داد مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۱۳۹۹ھ۔۱۹۷۹ء۔صفحہج۔طالع و ناشر شعبہ نشر و اشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان )۔۱۹۔مولا نا محمد احسن نانوتوی صفحه ۲۱۷ مولفه محمد ایوب صاحب قادری ایم اے ناشر مکتبہ عثمانیہ کہ ١٩٦٦ء۔۲۰ - صفحہ ۷۶۔ناشر المكتبه العصریۃ جامع اہل حدیث سانگلہ ہل۔۲۱- ترجمان وہابیہ صفحه ۵۴ - ۵۵ تصنیف نواب صدیق حسن خان صاحب مطبع محمدی لا ہو ر ۱۳۱۲ ھ۔۲۲ نقش حیات جلد دوم صفحه ۶۳۱ از مولوی سید حسین احمد صاحب مدنی ناشر دار الاشاعت مقابل مولوی مسافرخانہ کراچی۔۲۳۔تاریخ سلطنت خدا داد (میسور ) صفحه ۳۸۲ - تالیف محمود خان محمود بنگلوری پبلیشر ز یونائیٹڈ لاہور بار چہارم ۱۹۴۷ء۔۲۴۔اردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحہ ۱۶۶۶ مدیر اعلیٰ مولانا حامد علی خان ناشر شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور ۱۹۸۸ء۔۲۶-۲۵۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو۔The Punjab Chiefs Vol۔1-2 By: Sir Lepel II griffin, k۔c۔s۔i, 82