مذہب کے نام پر فسانہ — Page 69
تھے۔ایک دفعہ پادری صاحب فرماتے تھے کہ مسیح کو بے باپ پیدا کرنے میں یہ سر تھا کہ وہ کنواری مریم کے بطن سے پیدا ہوئے۔اور آدم کی شرکت سے جو گنہگار تھا بری رہے۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ مریم بھی تو آدم کی نسل سے ہے۔پھر آدم کی شرکت سے بریت کیسے۔اور علاوہ ازیں عورت ہی نے تو آدم کو ترغیب دی جس سے آدم نے درخت ممنوع کا پھل کھایا اور گنہگار ہوا۔پس چاہئے تھا کہ مسیح عورت کی شرکت سے بھی بری رہتے اس پر پادری صاحب خاموش ہو گئے۔پادری بٹلر صاحب مرزا صاحب کی بہت عزت کرتے تھے اور بڑے ادب سے ان سے گفتگو کیا کرتے تھے۔پادری صاحب کو مرزا صاحب سے بہت محبت تھی۔چنانچہ جب پادری صاحب ولایت جانے لگے تو مرزا صاحب کی ملاقات کے لئے کچہری میں تشریف لائے۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے پادری صاحب سے تشریف آوری کا سبب پوچھا تو پادری صاحب نے جواب دیا کہ میں مرز اصاحب سے ملاقات کرنے کو آیا تھا۔چونکہ میں وطن جانے والا ہوں اس واسطے ان سے آخری ملاقات کروں گا چنانچہ جہاں مرزا صاحب بیٹھے تھے وہیں چلے گئے اور فرش پر بیٹھے رہے اور ملاقات کر کے چلے گئے۔“ ۸۸ ع اتنی سی بات تھی جسے افسانہ کر دیا ے۔اس ضمن میں فسانہ سازی کا ایک تازہ شاہکار بھی ملاحظہ ہو جو روزنامہ ”خبریں“ مورخه ۲۷ رمئی ۱۹۹۵ء کے طفیل منظر عام پر آیا ہے۔مگر اس سے لطف اندوز ہونے کے 69