مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 67 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 67

//// چار اشخاص کو انٹرویو کے لئے طلب کیا۔ان میں سے مرزا صاحب نبوت کے لئے نامزد کئے گئے۔“ ۸۴ مؤلف کتاب نے اپنی مایہ ناز تحقیق“ کا سلسلہ اسنادان بدنام زمانہ معاندین احمدیت تک پہنچا کر خاموشی اختیار کر لی ہے جو بیسویں صدی کی پیداوار ہیں اور جن میں سے بعض کو شاعر مشرق نے خنزیر کا لقب بھی دے رکھا ہے۔۱۵ علامہ کی یہ تشبیہ گالی نہیں ایک لطیف استعارہ ہے جس کی تہہ تک پہنچنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی درج ذیل حدیث کا مطالعہ از بس ضروری ہے۔تکون في امتي فزعه فيصير الناس الى علمائهم فاذاهم قرده و خنازیر“(کنزل العمال جلدے صفحہ ۱۹۰ از دائرة المعارف النظاميه حيدرآباد دکن مطبوعہ ۱۳۱۴ھ ) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت پر ایک زمانہ اضطراب اور انتشار کا آئے گا۔لوگ اپنے علماء کے پاس راہنمائی کی امید سے جائیں گے تو وہ انہیں بندر اور سؤر پائیں گے۔یہ جدید پاکستانی محقق ملاؤں کی مفروضہ کہانی کو سہارا دینے کے لئے پہلے تو یہ ذکر فرماتے ہیں کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے سیالکوٹ میں پاور یوں بالخصوص پادری بٹلر سے بڑے تلخ و ترش مناظرے کئے۔پھر اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بعد ( جناب آغا شورش کاشمیری صاحب ( مدیر چٹان) کی روایت سے رقمطراز ہیں:۔”مرزا نے ملازمت کے دوران سیالکوٹ کے پادری مسٹر بٹلر ایم اے سے رابطہ قائم کیا۔اس کے پاس عموماً آتا اور دونوں اندر خانہ بات چیت کرتے۔بٹلر نے وطن جانے سے پہلے آپ سے تخلیہ میں کئی طویل 67