مذہب کے نام پر فسانہ — Page 64
//////// احمد قادیانی کے نام نکلا جو ڈ پٹی کمشنر سیالکوٹ کی کچہری میں معمولی 신 ملازم تھا، ۵۱ ۵۔فیصل آباد کے ایک بریلوی عالم صاحبزادہ محمد شوکت علی چشتی نظامی ایم اے بانی مرکزی جماعت غریب نواز پاکستان نے ۱۵ نومبر ۱۹۸۵ء کو جامعہ مسجد تو کلیہ فیصل آباد میں مدیر لولاک کے دعوی کی تقلید کرتے ہوئے مفروضہ کہانی کی ایک گمشدہ کڑی دریافت کی اور وہ یہ کہ انگریزی نبی کی تلاش کا کام مولانامحمد قاسم صاحب نانوتوی کے سپر د ہوا تھا نہ کہ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے۔چنانچہ انہوں نے جلسہ عام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔اس رپورٹ کے مطابق انگریزوں کو یقین ہو گیا کہ جب تک کسی شخص کو نبوت کے مقام پر فائز نہیں کر دیا جا تا ہم اپنے پروگرام میں کلی طور پر کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔لہذا کسی شخص کو نبوت کے مقام پر فائز کرنے سے قبل راستہ ہموار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس خدمت کو دار العلوم دیوبند انڈیا کے بانی مولوی محمد قاسم نانوتوی نے جمیع مسلمانوں کے عقائد ونظریات کے خلاف خوب نبھایا اور اپنی تحریر سے نئی نبوت کی داغ بیل یوں ڈالی۔غرض اختتام اگر بایں معنی تجویز کیا جائے جو میں نے عرض کیا تو آپ کا خاتم ہونا انبیاء گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانہ میں بھی کہیں اور نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہو نا بدستور باقی رہے گا۔(تحذیر الناس) 64