مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 62 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 62

کسی شخص سے محمد کا حواری نبی ہونے کا دعوی کرایا جائے، ۷۸ چودہ سو سال کی اسلامی تاریخ شاہد و ناطق ہے کہ محمد کے حواری نبی“ کی اصطلاح کبھی استعمال نہیں کی گئی۔ایسی صورت میں پادریوں کو بھلا یہ توقع ہی کیسے ہوسکتی تھی کہ مسلمانوں کی طرف سے ایسے مدعی کا کوئی خیر مقدم کیا جائے گا؟ ۲۔وہ صاحب جنہوں نے مذکورہ بالا اضافہ کیا انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے درج ذیل بیان شائع کر کے اس شرمناک داستان کو نقطہ کمال تک پہنچادیا کہ:۔ایک بزرگ خواجہ احمد صاحب کو لدھیانہ میں مہا راجہ پٹیالہ جے سنگھ نے انگریزوں کی طرف سے پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں ایمان نہیں بیچ سکتا۔اس امر کا تذکرہ مرزا غلام احمد کی موجودگی میں ہوا۔مرزا صاحب نے مہاراجہ سے مل کر ایمان کا سودا کر لیا۔مہاراجہ کا نام جے سنگھ بہادر اور ان کا خطاب امین الملک جو مہاراجہ کو وک انگریزوں نے دیا تھا۔“ کے پٹیالہ کی سکھ ریاست کے مفصل حالات منشی دین محمد صاحب ایڈیٹر میونسپل گزٹ لاہور نے یادگار در بار تاجپوشی میں گیانی گیان سنگھ صاحب نے ” تواریخ خالصہ میں لالہ سوہن لال صاحب نے عمدۃ التواریخ میں اور سرلیپل گریفن اور کرنل چارلس فرانس میسی نے دی پنجاب چیفس (THE PUNJAB CHIEFS) میں بڑی شرح بسط سے لکھے ہیں۔ان سب تواریخ سے بالا تفاق ثابت ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا کوئی ہمعصر راجہ جے سنگھ اس ریاست میں حکمران ہی نہیں رہا۔نہ کسی سکھ حکمران کو انگریز نے امین الملک کا خطاب دیا۔مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی مطبوعہ روداد ۱۹۷۹ء صفحہ ۷ میں یہ انکشاف 62 62