مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 54 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 54

( ترجمہ ) پانچ ارکان ایمان جو مرزا صاحب نے پانچ بنیادی عقائد کے طور پر سرولیم میک ورتھ بینگ کو بتاریخ ۱۵ مارچ ۱۸۹۸ء ایک یادداشت میں تحریر کئے تھے ان میں تیسرے رکن کے الفاظ یہ ہیں۔اسلامی صداقتوں کی دلائل اور آسمانی نشانات کے ساتھ تبلیغ کرنا اور جہاد کو موجودہ حالات میں ممنوع سمجھنا۔“ یہ بات ہمیں پوپ کے ملکہ الزبتھ کے ساتھ رویہ کی یاد دلاتی ہے جو کہ ملکہ کے دور حکومت کے ہر طالب علم کے علم میں ہے۔۱۵۶۹ء میں پوپ پائس (PIUS) پنجم نے ایک فرمان الز بتھ کے خلاف جاری کیا تھا جس میں ملکہ کی رومن کیتھلک رعایا کو ملکہ کے ساتھ وفاداری سے بری قرار دیا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ پروٹسٹنٹ ملکہ کے خلاف پاپائی جہاد کریں۔لیکن یہ قطعی حکم پوپ گریگری سیز دہم کے فرمان مجریہ ۱۵۸۰ء کے ذریعے مشروط کر دیا گیا جس میں انگریز میتھلکس کو ملکہ الزبتھ کے خلاف طاقت استعمال کرنے کے فرض سے سبکدوش کر دیا گیا اور انہیں ملکہ کے ساتھ وفادار رہنے کی اجازت دے دی گئی یہاں تک کہ وہ اس قدر طاقتور ہو جائیں کہ ملکہ کے خلاف کھلے بندوں بغاوت کر سکیں۔بالفاظ دیگر پوپ گریگری سیز دہم کے فرمان نے الز بتھ کے خلاف پا پائی جہاد کو نا قابل عمل اور موجودہ حالات میں ممنوع قرار دیا۔اسی طرح مرزا صاحب کے اس رکن ایمان کے مطابق غیر مسلم دنیا کے خلاف جہاد ممنوع ہے قطعی طور پر نہیں بلکہ صرف ”موجودہ حالات کے تحت۔ریورنڈ گر سولڈ کے اس تبصرہ کو انگریزی گورنمنٹ کے نیم سرکاری اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ مورخہ ۲۴ اکتوبر ۱۸۹۴ ء کے اس مخالفانہ نوٹ کی روشنی میں مطالعہ کیا جانا 54