مذہب کے نام پر فسانہ — Page 51
///// کی حدیث مبارک یضع الحرب کی روشنی میں بحیثیت حکم و عدل یہ آپ کی فرائض منصبی میں شامل تھا جسے آپ نے مجاہدانہ شان کے ساتھ انجام دیا۔اور بار بار تصریح فرمائی کہ موجودہ حالات میں جب کہ اسلامی شرائط مفقود ہیں جہاد جائز نہیں ہے۔اس سلسلہ میں بطور نمونہ آپ کی چند تصریحات درج ذیل کی جاتی ہیں۔ا۔” فرفعت هذه السنه برفع اسبابها في هذه الايام بباعث شرائط کے نہ ہونے کے موجودہ ایام میں تلوار کا جہاد نہیں رہا۔٢۔”وامرنا ان نعد للكافرين كما يعدون لنا ولا نرفع الحسام قبل ان نقتل بالحسام اور ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم کافروں کے مقابل میں اسی قسم کی تیاری کریں جیسی وہ ہمارے مقابلہ کے لئے کرتے ہیں یا یہ کہ ہم کافروں سے ویسا ہی سلوک کریں جیسا وہ ہم سے کرتے ہیں اور جب تک وہ ہم پر تلوار نہ اٹھائیں اس وقت تک ہم بھی ان پر تلوار نہ اٹھائیں۔۔’ولا شک ان وجوه الجهاد معدومه في هذا الزمن وهذه البلاد» ۲۸ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاد کی وجوہ یا شرائط اس زمانہ اور ان شہروں میں نہیں پائی جاتیں۔۴۔اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اس زمانہ میں جہاد یہی ہے کہ اعلائے کلمہ اسلام میں کوشش کریں۔مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں۔دین متین اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلائیں۔آنحضرت ﷺ کی سچائی دنیا پر ظاہر کریں یہی جہاد ہے جب تک کہ خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر نہ کرے ، ۶۹ 66 51