مذہب کے نام پر فسانہ — Page 49
دے گا فرزندی کا اب اپنی خدا خلعت تجھے برکتیں دنیا میں پھیلیں تیرے دم سے جس طرح بس یوں ہی کنج لحد میں دے خدا برکت تجھے ۵۸ ملکہ کی وفات پر لاہور میں ایک ماتمی جلسہ منعقد ہوا جس میں شاعر مشرق ڈاکٹر سرمحمد اقبال نے ایک سو دس شعر کا ترکیب بند پڑھا جسے مطبع خادم العلیم میں چھاپ کر کتابچے کی شکل میں بھی شائع کیا گیا۔جناب محمد عبد اللہ صاحب قریشی نے ”باقیات اقبال، ۵۹ کے صفحہ ۷۲ تا ۸۱ میں اسے دوبارہ ریکارڈ کر دیا ہے۔پورا مرثیہ پڑھنے کے لائق ہے۔ہر شعر سے ملکہ وکٹوریہ کی عظمت اور جلالت مرتبت کا پتہ چلتا ہے اور ہر شعر غم واندوہ میں ڈوبا ہوا ہے۔فرماتے ہیں۔آئی ادھر نشاط ادھر غم بھی آگیا کل عید تھی تو آج محرم بھی آگیا اقلیم دل کی آہ شہنشاہ چل بسی ماتم کدہ بنا ہے دل داغدار آج تو جس کی تخت گاہ تھی اے تخت گاہ دل رخصت ہوئی جہان سے وہ تاجدار آج اے ہند تیری چاہنے والی گزر گئی میں ترے کراہنے والی گزر گئی اے ہند تیرے سر سے اٹھا سایہ خدا اک غم گسار تیرے کمینوں کی تھی گئی 49