مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page v of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page v

بسم اللہ الرحمن الرحیم انتساب ان حق کے طالبوں کے نام جو کلام اللہ میں برادران یوسف کی من گھڑت اور بناوٹی کہانی کا گہری نظر سے مطالعہ کرتے اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں اور یوسف دوراں کی یہ آسمانی آواز خوب غور سے سنتے ہیں کہ اوائل میں یوسف نادانوں کی نظر میں حقیر اور ذلیل ہو گیا تھا مگر خدا نے اس کو ایسی عزت دی کہ اس کو اسی ملک کا بادشاہ بنا کر قحط کے دنوں میں وہی لوگ غلام کی طرح اس کے بنادیئے جو غلامی کا داغ بھی اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔پس خدا تعالیٰ مجھے یوسف قرار دے کر یہ اشارہ فرماتا ہے کہ اس جگہ بھی میں ایسا ہی کروں گا۔اسلام اور غیر اسلام میں روحانی غذا کا قحط ڈال دوں گا اور روحانی زندگی کے ڈھونڈ نے والے بجز اس سلسلہ کے کسی جگہ آرام نہ پائیں گے اور ہر ایک فرقہ سے آسمانی برکتیں چھین لی جائیں گی اور اسی بندہ درگاہ پر جو بول رہا ہے ہر ایک نشان کا انعام ہو گا۔پس وہ لوگ جو اس روحانی موت سے بچنا چاہیں گے وہ اسی بندہ حضرت عالی کی طرف رجوع کریں گے اور یوسف کی طرح یہ عزت مجھے اس تو ہین کے عوض دی جائے گی بلکہ دی گئی جس تو ہین کو ان دنوں میں ناقص العقل لوگوں نے کمال تک پہنچایا ہے اور گو میں زمین کی سلطنت کے لئے نہیں آیا مگر میرے لئے آسمان پر سلطنت 66 ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی۔“ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم طبع اول صفحہ ۷۸ - ۷۹ تالیف حضرت بانی جماعت احمدیہ )