مذہب کے نام پر فسانہ — Page 44
مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری مرحوم۔پروفیسر الیاس برنی صاحب حیدرآباد دکن - منشی محمد عبد اللہ صاحب۔مولوی ایم۔ایس۔خالد صاحب وزیر آبادی۔مولانا سید برکت علی شاہ صاحب وزیر آبادی۔پروفیسر غلام جیلانی صاحب برق پی ایچ ڈی۔مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی۔یہ ناپاک گٹھ جوڑ آج سے نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی مسیحیت (۱۸۹۱ء) سے چلا آرہا ہے۔جس سے اس باطل خیال پر بھی ضرب کاری لگتی ہے کہ پادریوں کی تجویز پر آپ کو معاذ اللہ ظلی نبی بنا کر کھڑا کیا گیا تھا جب کہ احمدیت کی پوری تاریخ پادریوں کی اس کے خلاف مخالفانہ کاروائیوں سے بھری ہوئی ہے۔اور کون ہے جو اس حقیقت کا انکار کر سکے کہ ۱۹۵۳ ء اور ۱۹۷۴ء کی مخالف احمدیت تحریکوں میں احرار کو عیسائی مشنریوں کی بھر پور حمایت حاصل تھی۔اسی طرح پاکستان کے آمر جنرل ضیاء الحق نے ۲۶ را پریل ۱۹۸۴ء کو احمدیت کے خلاف آرڈینینس جاری کیا تو عیسائی رہنماؤں نے اس کا بھی زبردست خیر مقدم کیا۔چنانچہ روز نامہ امروز ے مئی ۱۹۸۴ء صفحہ ے کالم ۳ ۴ نے اس سلسلہ میں حسب ذیل خبر شائع کی ”پاکستان نیشنل کرسچن لیگ کے صدر جیمز صوبے خان نے قادیانیوں کے اسلامی طرز عمل کو غیر قانونی قرار دینے پر صدر جنرل محمد ضیاء الحق اور ان کی حکومت کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور اپنی مسیحی برادری کے تعاون کا یقین دلاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قادیانیوں کو تخریب کار گروہ قرار دے کر ان کی جائیدادوں اور دولت کو ضبط کر لیا جائے۔ان کی جھوٹی اور من گھڑت تبلیغ پر مکمل پابندی لگادی جائے۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ عالمی سطح پر مسیحی مسلم اتحاد کو متحکم بنانے کے لئے دنیا بھر کے تمام مسیحی ممالک اور خصوصاً سپین کے پاس پاکستان سے مسلم علماء اور مسیحی مبلغوں کے وفد بھیجے جائیں۔“ 44