مذہب کے نام پر فسانہ — Page 41
مخالف ہے جن کی بناء پر محمد کا مذہب ہماری نگاہ میں قابل نفرین قرار پاتا ہے اس نئے اسلام کی وجہ سے محمد کو پھر وہی پہلی سی عظمت حاصل ہوتی جارہی ہے۔یہ نئے تغیرات باسانی شناخت کئے جاسکتے ہیں۔پھر یہ نیا اسلام اپنی نوعیت میں مدافعانہ ہی نہیں بلکہ جارہانہ حیثیت کا بھی حامل ہے۔افسوس ہے تو اس بات کا کہ ہم میں سے بعض کے ذہن اس کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔(انگریزی سے ترجمہ ) ۴۶ مولانا نور محمد صاحب نقشبندی، چشتی ،مالک اصح المطابع دہلی تحریر فرماتے ہیں۔”ولایت کے انگریزوں نے روپے کی بہت بڑی مدد کی اور آئندہ کی مدد کے مسلسل وعدوں کا اقرار لے کر ہندوستان میں داخل ہو کر بڑا تلاطم برپا کیا۔تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہو گئے اور پادری اور اس کی جماعت سے کہا عیسی جس کا تم نام لیتے ہو دوسرے انسانوں کی طرح فوت ہو چکا ہے اور جس عیسی کے آنے کی خبر ہے وہ میں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس ترکیب سے اس نے نصرانیوں کو اتنا تنگ کیا کہ اس کو پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا اور اس ترکیب سے اس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دے دی۔“۔مولانا ابوالکلام آزاد نے اخبار وکیل امرتسر میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے وصال (۲۶ مئی ۱۹۰۸ء) پر ایک نہایت موثر اور پر قوت وشوکت شذرہ سپر د قلم فرمایا جس میں لکھا کہ:۔” وہ وقت ہر گز لوح قلب سے نسیا منسیا “ نہیں ہوسکتا۔جبکہ اسلام 41