مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 35 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 35

/// برصغیر کے طول و عرض پر انگریزوں کی حکمرانی اور امن و امان کی بحالی کے بعد انگریز پادری بھلا برطانوی حکومت کو یہ کیونکر مشورہ دے سکتے تھے کہ ملکی امن و امان جس کے لئے اس نے مسلسل بارہ سال تک رات دن کوشش کی اور لاکھوں بلکہ اربوں پاؤنڈ خرچ کئے اسے داخلی انتشار کے ذریعہ تباہ و برباد کر دیا جائے یقیناًیہ سراسر غلط اور سرتا پا جھوٹ ہے۔اس دور میں برطانوی حکومت تو ہندوستان کے دلوں کو جیتنے اور ان کو رام کرنے کے لئے تجاویز سوچ رہی تھی جیسا کہ اس پمفلٹ میں اعتراف کیا گیا ہے۔اسے اپنی مسلم رعایا کی دلجوئی اور ان کا داخلی اتحاد اس حد تک محبوب تھا کہ اس نے اپنے وائسرائے سر جان لارنس کو اوائل ۱۸۶۸ء میں ہندوستان بھیجا تا کہ افغانستان کی ہمسایہ مسلم مملکت سے گہرے مراسم قائم کریں چنانچہ امیر شیر علی خان والی افغانستان کو ملاقات کے لئے دعوت دی گئی اور ۲۹ / مارچ ۱۸۶۸ء کو بڑی شان وشوکت کے ساتھ انبالہ میں ان کا خیر مقدم کیا گیا۔سرجان لارنس نے نہ صرف انہیں فرمانروائے افغانستان تسلیم کیا بلکہ ان کے لئے بارہ لاکھ سالانہ وظیفہ اور ایک معقول تعداد سالانہ آلات حرب مقرر کئے جانے کا اعلان عام کیا۔ہیں کہ :۔امیر عبد الرحمن خان بادشاہ افغانستان اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھتے سلطنتیں ایک عرصہ دراز سے برطانیہ اعظم کی عام پالیسی یہ ہے کہ اسلامی ما جو ہندوستان اور ایشیائی روس کے درمیان مثل دیوار کے حائل ہیں باقی رہیں اور ان کی خود مختاری بخوبی قائم رہے تا کہ روس کی راہ میں ایک اپنی 35 35