مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 21 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 21

واقعہ اٹھاون سال بعد وقوع پذیر ہوا۔///////// پانچواں جھوٹ غدار بنگال میر جعفر جس نے کلایو سے ساز باز کی تھی ۱۸۵۷ء کے غدر سے اس کا بھی ۲۴ کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ وہ ۱۷۶۵ میں یعنی غدر سے قریباً ۸۲ سال قبل جذام سے ہلاک ہو چکا تھا۔چھٹا جھوٹ جیسا کہ سرسید احمد خان نے ” اسباب بغاوت ہند“ میں لکھا ہے۔پنجاب کے مسلمان سکھوں کے مظالم کے باعث بہت ستم رسیدہ تھے مگر انگریزی سرکار یہاں عوام کے رفاہ میں سرگرم تھی۔یہ تھا وہ پس منظر جس میں پنجاب کے دیگر بہت سے محب وطن اور معز ز مسلمان خاندانوں کی طرح حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب رئیس قادیان نے بھی ۱۸۵۷ء کے غدر کے دوران قیام امن کے لئے حکومت وقت کی دل و جان سے امداد کی۔دوسرے خاندانوں کو تو اس تعاون کی بدولت انعاموں خلعتوں اور جاگیروں سے نواز ا گیا۔مگر حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی خاندانی جاگیر جو سلطان بابر کے عہد حکومت (۱۵۳۰ء) سے چلی آرہی تھی انگریزی حکومت نے ۱۸۵۷ء میں ضبط کر لی۔جیسا کہ سرلیپل گریفن Sir Lepel Griffein اور کرنل چارلس فرانس میسی Colonel Charles Francis Massy نے کتاب دی پنجاب چیفس میں لکھا ہے کہ:۔21