مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 20 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 20

//////// زمانہ غدر میں سواروں اور تلنگوں نے بعض مولویوں سے زبر دستی جہاد کے مسئلہ پر مہر کرائی۔فتویٰ لکھایا۔جس نے انکار کیا اس کو مار ڈالا اور اس کا گھر لوٹ لیا۔سو وہ مہر کرنے والے اور فتویٰ لکھنے والے بھی غالباً وہی لوگ تھے جو اہل سنت و اہل حدیث کو زبر دستی وہابی نام رکھتے ہیں اور ان کے دشمن جانی ہیں۔۲۱ برطانوی ہند کے ممتاز علماء کی طرح خلیفتہ المسلمین ترکی نے بھی یہی فرمان جاری کئے چنانچہ دیو بندی عالم مولوی حسین احمد صاحب مدنی اپنی خود نوشت سوانح میں اس کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔“ ۱۸۵۷ء میں سلطان عبد المجید مرحوم سے فرمان مسلمانوں کے لئے انگریزوں سے نہ لڑنے اور ان کی اطاعت کرنے کا بحیثیت خلافت حاصل کیا اور ہندوستان میں پرو پیگنڈا کیا کہ خلیفہ کے حکم پر چلنا مسلمانوں کے لئے مذہبی حیثیت سے فرض ہے۔چنانچہ امیر عبد الرحمن خان والی کابل مرحوم اپنی تزک میں لکھتے ہیں کہ اسی فرمان خلیفہ کی بناء پر سرحدی قبائل ٹھنڈے پڑ گئے تھے۔۲۲ چوتھا جھوٹ غدر ۱۸۵۷ء کے ساتھ حیدر آباد دکن کے رسوائے عالم غدار میر صادق کا ذکر کیا گیا ہے۔حالانکہ تاریخ کا اورٹی طالب علم بھی جانتا ہے کہ یہ شخص سلطان المجاہدین سلطان فتح علی ٹیپو کی شہادت کے معا بعد ہ رمئی ۱۷۹۹ء کو ہی مارا گیا اور کیفر کردار کو پہنچ گیا تھا جبکہ غدر کا 20