مذہب کے نام پر فسانہ — Page 19
//// تو اس فتویٰ پر دستخط نہیں کیا مہر کیا کرتے اور کیا لکھتے۔مفتی صدر الدین 66 خان صاحب چکر میں آگئے۔“ بہادر شاہ کو بھی بہت سمجھایا کہ انگریزوں سے لڑنا مناسب نہیں ہے مگر وہ باغیوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی ہورہے تھے کرتے تو کیا کرتے ، ۲۰ نواب محمد صدیق حسن خان صاحب قنوجی مجد داہل حدیث“ کہلاتے ہیں۔آپ نے بھی یہی فتویٰ دیا کہ ۱۸۵۷ء کا ہنگامہ فساد تھا شرعی جہاد ہر گز نہیں تھا۔چنانچہ خود فرماتے ہیں۔زمانہ غدر میں جولوگ سر کا رانگریزی سے لڑے اور عہد شکنی کی وہ جہاد نہ تھا فساد تھا۔یہ بغاوت جو ہندوستان میں بزمانہ غدر ہوئی اس کا نام جہا درکھنا ان لوگوں کا کام ہے جو اصل دین اسلام سے آگاہ نہیں ہیں اور ملک میں فسادڈالنا اور امن کا اٹھانا چاہتے ہیں۔جب تک کوئی شخص متصف بہ صفات امام شرعی نہ ہوا ور سب منتظمان وعقلا ملک کا اس پر اتفاق نہ ہو اور وہ خاص قریشی ہو دوسری ذات کا آدمی نہ ہو اور سب اس کو قبول کریں اور اس کی اطاعت اپنے حق میں فرض جانیں اور سب شرائط دعوت اسلام اور جزیہ و جہاد کے موجود ہوں اس وقت جہاد ہوسکتا ہے۔سو ان صفات کا امام سینکڑوں برس سے دنیا میں مفقود ہے اور وہ شرائط بالکل معدوم۔مجرد موجود ہونے مسئلہ جہاد سے با وجود معدوم ہونے شروط جہاد کے کتب اسلام میں کوئی مسلمان جہادی وہابی باغی نہیں ہو سکتا۔19