مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 18 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 18

//// ///////// کر کرتا ہے وہ یہاں ایک مولوی چالیس روپیہ ماہانہ پر کر رہا ہے۔یہ مدرسہ خلاف سرکار نہیں بلکہ موافق سرکار مد معاون سرکار ہے۔یہاں کے تعلیم یافتہ لوگ ایسے آزاد اور نیک چلن ( سلیم الطبع ) ہیں کہ ایک کو دوسرے سے کچھ واسطہ نہیں۔کوئی فن ضروری ایسا نہیں جو یہاں تعلیم نہ ہوتا ہو۔صاحب مسلمانوں کے لئے تو اس سے بہتر کوئی تعلیم اور تعلیم گاہ نہیں ہوسکتی اور میں تو یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ غیر مسلمان بھی یہاں تعلیم پاوے تو خالی نفع سے نہیں اے صاحب سنا کرتے تھے کہ ولایت انگلستان میں اندھوں کا مدرسہ ہے یہاں آنکھوں سے دیکھا کہ دواند ھے تحریر اقلیدس کی شکلیں کف دست پر ایسی ثابت کرتے ہیں کہ باید و شاید 19 66 ایام غدر میں ممتاز ترین اہل حدیث عالم ” شیخ الکل سید محمد نذیر حسین صاحب دہلوی نے گورنمنٹ انگلشیہ کے ساتھ کمال وفاداری کا نمونہ دکھایا اور انگریزوں کے خلاف فتویٰ جہاد پر دستخط کرنے سے صاف انکار کر دیا۔چنانچہ ان کے سوانح نگار مولوی فضل حسین صاحب بہاری ”الحیات بعد الممات میں لکھتے ہیں۔”میاں صاحب بھی گورنمنٹ انگلشیہ کے کیسے وفادار تھے۔زمانہ غدر ۱۸۵۷ء میں جب کہ دہلی کے بعض مقتدر اور بیشتر معمولی مولویوں نے انگریزوں پر جہاد کا فتویٰ دیا تو میاں صاحب نے نہ اس پر دستخط کیا نہ مہر۔وہ خود فرماتے تھے کہ ”میاں وہ ہلڑ تھا۔بہادر شاہی نہ تھی۔وہ بیچارہ بوڑھا بہادر شاہ کیا کرتا۔حشرات الارض خانہ برانداز وں نے تمام دہلی کو خراب ویران نتباہ اور برباد کر دیا۔شرائط امارت و جہاد بالکل مفقود تھے۔ہم نے 18