مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 12 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 12

//////////// پہلا جھوٹ پمفلٹ کا تنقیدی جائزہ 7//////// ۱۸۵۷ ء کے غدر کو مقدس جہاد سے تعبیر کرنا ( جس کے پس پردہ مسلمانوں کو ہندوؤں کا دائمی غلام بنانے کی سازش کار فرما تھی ) اس مقدس اصطلاح کی شرمناک تحقیر و تذلیل ہے۔سرسید احمد خان دہلوی بانی علیگڑھ کالج کی چشم دید شہادت ہے کہ :۔اس زمانے میں جن لوگوں نے جہاد کا جھنڈا بلند کیا ایسے خراب اور بد رویہ اور بد اطوار آدمی تھے کہ بجز شراب خواری اور تماش بینی اور ناچ اور رنگ دیکھنے کے کچھ وظیفہ ان کا نہ تھا۔بھلا یہ کیونکر پیشوا اور مقتدا جہاد کے گنے جاسکتے تھے۔اس ہنگامے میں کوئی بات بھی مذہب کے مطابق نہیں ہوئی۔پھر کیوں کر یہ ہنگامہ غدر جہاد ہوسکتا تھا۔ہاں البتہ چند بد ذاتوں نے دنیا کی طمع اور اپنی منفعت اور اپنے خیالات پورا کرنے اور جاہلوں کے بہکانے کو اور اپنے ساتھ جمعیت جمع کرنے کو جہاد کا نام لے دیا۔پھر یہ بات بھی مفسدوں کی حرمزدگیوں میں سے ایک حرمزدگی تھی نہ 66 واقع میں جہاد ا راقم الدولہ سید ظہیر الدین ظہیر دہلوی شاگر د ذوق دہلوی و داروغہ ماہی مراتب بہادر شاہ ظفر ” داستان غدر میں تحریر فرماتے ہیں۔وو وقت شب افواج پیاده و سوار متفق کمر بندی ہو گئی اور جیل خانہ پر کے۔12