مذہب کے نام پر فسانہ — Page 3
////// کے صدر تھے اور مجلس احرار کو ہندوؤں سے با قاعدہ روپیہ ملتا تھا کیونکہ کانگریس کی حمایت کرتے تھے۔دوسری طرف ان کا تعلق سنٹرل انٹیلی جنس سے تھا۔وہ کانگریس کے خلاف رپورٹیں دیا کرتے تھے۔مگر بظاہر وہ ایک دینی عالم تھے۔بہترین مبلغ اور انگریز کے خلاف بے خوفی سے تقریر کیا کرتے تھے دراصل انگریز میں ایک کمال تھا کہ وہ اپنے لوگوں سے ایسا کام لیتا تھا۔لوگوں کے سامنے اسے گالیاں دو تا کہ لوگ اسے حکومت کے خلاف سمجھیں اور اس کے سامنے کھل کر بات کریں۔اس وجہ سے مولا نا کو کانگریس کا وظیفہ الگ اور انٹیلی جنس کا وظیفہ الگ ملتا تھا۔“ (میری زندگی کی یاد داشتوں کا چوتھا حصہ۔صفحہ ۳۸۔مولفہ سید عبداللہ شاہ۔مدیر روز نامہ الفلاح پشاور )۔3