مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 72 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 72

//////////// ۱۸۵۶ء سے ۱۸۶۲ء تک پہلے گورنر جنرل اور پھر وائسرائے ہند رہے اور ۱۸۶۲ء میں ہی ہندوستان سے واپسی کے بعد انتقال کر گئے۔۹۴ قیاس کن ز گلستان من بهار مرا ع فسانہ سازی کی ایک نادر مثال عصر حاضر کے فرقہ پرست اور کانگرسی علماء کو فسانہ طرازی کے فن میں ید طولی حاصل 66 ہے جس کی ایک نادر مثال اور لا جواب نمونہ ایک عالم دین کے قلم سے ملاحظہ ہو۔فرماتے ہیں۔اہل تشیع ایک سراب کا تعاقب کر رہے ہیں۔وہ جس امام مہدی کی آمد کی آس لگائے بیٹھے ہیں وہ انگریز کی فکری بساط کا ایک مہرہ تھا۔شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی اپنی کتاب ”جلاء العیون“ میں معتبر اسناد کے ساتھ شیخ طوسی کے حوالے سے جو دیو مالائی روایات لائے ہیں وہ روایات اسی حقیقت کی آئینہ دار ہیں۔ان روایات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تیسری صدی ہجری کے دوسرے عشرے میں امام حسن عسکری انگریزوں سے روابط بڑھانے کے لئے انگریزی زبان سیکھتے رہے اور دوسری طرف انگریز ایک حسین و جمیل دوشیزہ کو عربی زبان سکھاتے رہے تا آنکہ امام حسن عسکری نے بشیر بن سلیمان بردہ فروش کی خدمات حاصل کیں اور انگریزی زبان میں ایک دوسرے بردہ فروش عمرو بن زید کو خط تحریر کیا جو بشیر بن سلیمان ، عمرو بن زید 72