مذہب کے نام پر فسانہ — Page 52
///// ۵۔حضرت اقدس کے شعری کلام سے بھی ثابت ہے کہ آپ کے نزدیک جہاد منسوخ نہیں ملتوی ہوا ہے۔کیوں بھولتے ہو تم يضع الحرب کی خبر کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر فرما چکا سید کونین مصطفی ہے عیسی مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا کے ۶۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء کولیفٹنٹ گورنر کی خدمت میں ایک میموریل بھیجا جس میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور دیگر مخالفین کی مفتریا نہ مخبریوں کا جواب دیتے ہوئے سلسلہ احمدیہ کے پانچ بڑے اصول بیان کئے جس میں تیسرا اصول یہ بیان کیا کہ آپ دین اسلام کی دعوت محض دلائل عقلیہ اور آسمانی نشانوں سے کر رہے ہیں اور خیالات غازیانہ اور جہاد نہ اور جہاد جنگجوئی کو اس زمانہ کے لئے قطعی طور پر حرام اور ممتنع سمجھتے ہیں۔اے ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء کے اس میموریل پر زبردست تنقید کرتے ہوئے برٹش انڈیا کے مشہور پادری ریورنڈ ایچ۔ڈی گرسولڈ (REV H۔D۔GRISWOLD) نے حسب ذیل تبصرہ کیا۔In the five articles of faith which the Mirza Sahib published as his five principal doctrines in a memorial to Sir William Mackworth Young, dated March 5th 1898, the third article reads thus: To preach Islamic truths with reasoning and 52