مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 48 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 48

/////// تھے۔بعض جو خواص و علماء کہلاتے تھے وہ بھی اصل علوم دین ( قرآن و حدیث) سے بے بہرہ تھے یا نا فہم و بے سمجھ۔باخبر و سمجھ دار علماء اس میں ہرگز شریک نہیں ہوئے اور نہ اس فتویٰ پر جو اس غدر کو جہاد بنانے کے لئے 66 مفسد لئے پھرتے تھے انہوں نے خوشی سے دستخط کئے ، ۵۶ اس رسالے کو مختلف فرقہائے اہل اسلام کے خواص و عام نے پسند کیا اور پنجاب کے لیفٹنٹ گورنر سر چارلس ایچیسن نے اپنے نام نامی سے اس کا ڈیڈیکیٹ ہو نا منظور فرمایا اور سر کا رانگریزی سے اس کے معاوضہ میں جا گیر بھی ملی۔“ ۵۷ 66 ملکہ وکٹوریہ کا انتقال ۲۲ جنوری ۱۹۰۱ء کوعید الفطر کے روز بوقت شام ہوا۔جس پر برٹش انڈیا کے باشندوں خصوصاً مسلمانوں پر غم والم کی رات چھا گئی۔اور ہر طرف صف ماتم بچھ گئی اور بقول مولوی بشیر الدین دہلوی' ایسا ماتم ہوا جیسے اپنے کسی عزیز قریب کا ہو نامور مسلم مفکر اور شاعر علامہ الطاف حسین حالی نے ان کی یاد میں ایک طویل مرثیہ لکھا جو بہت دردانگیز تھا چند اشعار ملاحظہ ہوں۔ہے تیری نیکی سے امید اے زمیں کے بادشا آسمانی بادشاہت میں خدا دے تجھ کو جا کر لئے تھے سب بیگانوں اور بے گانوں کے دل نیکیوں سے تو نے اپنی فتح اے وکٹوریا جس قدر علمی فتوحات اس زمانے میں ہوئیں دہر کی تاریخ میں ملتا نہیں ان کا پتا تو مبارک تھی کہ تجھ کو صلح تھی دل سے پسند 48