مذہب کے نام پر فسانہ — Page 40
7//////// میں جو کچھ لکھا گیا۔اس کا جواب کسی پادری سے نہ ہو سکا۔“ مولوی سید محمد میاں صاحب ناظم جمیعت علماء ہند نے تسلیم کیا کہ رد عیسائیت بظاہر ایک واعظانہ اور مناظرانہ چیز ہے جس کو سیاست سے بظاہر کوئی تعلق نہیں۔لیکن غور کرو جب حکومت عیسائی گر ہو جس کا نقطہ نظر ہی یہ ہو کہ سارا ہندوستان عیسائی مذہب اختیار کرے اور اس کی تمنا دلوں کے پردوں سے نکل کر زبانوں تک آ رہی ہو۔اور بے آئین اور جابر حکومت کا فولادی پنجہ اس کی امداد کر رہا ہو تو یہی تبلیغی اور خالص مذہبی خدمت کس قدرسیاسی اور کتنی زیادہ سخت اور صبر آزما بن جاتی ہے۔بلاشبہ ردعیسائیت کے سلسلہ میں ہر ایک مناظرہ ہر ایک تبلیغ ، ہر ایک تصنیف اغراض حکومت سے سراسر بغاوت تھی ، ۴۵ ۱۸۹۴ء میں لندن میں پادریوں کی ایک عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں لارڈ بشپ آف گلوسٹر ریورنڈ چارلس جان ایلی کوٹ نے احمدیت کے متعلق نہایت درجہ تشویش و اضطراب کا اظہار کر کے دنیا بھر کے عیسائیوں کو مطلع کیا کہ اسلام میں ایک نئی حرکت کے آثار نمایاں ہیں مجھے ان لوگوں نے جو صاحب تجر بہ ہیں بتایا ہے کہ ہندوستان کی برطانوی مملکت میں ایک نئی طرز کا اسلام ہمارے سامنے آرہا ہے اور اس جزیرے میں بھی کہیں کہیں اس کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔یہ ان بدعات کا سخت 40