مذہب کے نام پر فسانہ — Page 36
دیوار بن جائیں۔بخلاف اس کے روس کی پالیسی بالکل اس کے برعکس ہے نہ صرف اس وجہ سے کہ اس کے ملک کے حدود ہندوستان کی سرحد سے مل جائیں بلکہ اسے ہمیشہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ اگر ٹر کی یا ایران یا افغانستان یا ہندوستان کے ساتھ جنگ ہوئی تو اس کی مسلمان رعایا میں عام غدر ہو جائے گا۔اس میں شک نہیں کہ تمام دنیا کے مسلمان سلطنت برطانیہ کی دوستی کو روس کی دوستی پر ترجیح دیتے ہیں اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی باہمی دوستی اور صلح برطانیہ عظم کی دوستی پر منحصر ہے۔" انیسویں صدی کا ایک مشہور انگریز مورخ سر آلفر ڈ لائل پی سی۔کے سی۔بی۔ڈی سی ال ۱۸۵۷ء کے غدر کا ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے:۔تمام مملکت ہند کی بلا واسطہ حکمرانی کمپنی کے قبضے سے منتقل ہو کر ۱۸۵۸ء میں تاج برطانیہ سے متعلق کر دی گئی۔اب اس سلطنت کی فوقیت ایسی مسلم ہو چکی ہے کہ تمام قلمروئے ہند میں کوئی رائے یا کوئی احساس ایسا نہیں ہے جو اس کو تسلیم کرنے میں تامل کر سکے۔خاندانی تنازعوں اور ہم چشمیوں کے فنا ہو جانے سے سیاسی زندگی کا ایک عصر جدید شروع ہو گیا۔سلطنت ہند کی تکمیل کو تسلیم کر لیا گیا اور اگر چہ نئے نئے سیاسی معیار کی نئی نئی جماعتیں اندرون سلطنت میں پیدا ہوگئی ہیں جو بلحاظ اپنے انتظامی نقطہ نظر و بلحاظ اپنی حوصلہ مندیوں اور بلحاظ اپنی غایت مقصود کے مختلف الخیال ہیں مگر وہ سب تاج برطانیہ کے ساتھ غیر متزلزل وفاداری رکھنے میں بالکل 36