مذہب کے نام پر فسانہ — Page 32
دسواں جھوٹ ///////// کہانی تخلیق کرنے والوں نے پادری صاحبان کی طرف جو دلفریب رپورٹ ایجاد فرمائی ہے وہ خود اپنے اندر اس کے فرضی ہونے کی متعدد اندرونی شہادتیں رکھتی ہے جن سے صاف کھل جاتا ہے کہ رپورٹ کے الفاظ کسی انگریز پادری کے نہیں احراری پادری کے قلم سے نکلے ہیں۔کیونکہ ایک تو اس میں برطانوی استعمار کومستحکم کرنے والوں کے لئے بار بار غدار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو کوئی انگریز استعمال نہیں کر سکتا۔دوسرے انگریز اور عیسائی پادریوں کے ہاں اپاٹل (APOSTLE) کا لفظ حضرت مسیح کے حواریوں کے لئے مستعمل ہے جنہیں وہ رسول کے نام سے بھی پکارتے ہیں لیکن اپاسٹلک پرافٹ“ (APOSTOLIC PROPHET) کی کوئی اصطلاح ان میں موجود نہیں۔ملاحظہ ہو۔(The New Lexicon Webster's Dictionary p۔43 Lexicon Publication, INC, New York 1991) تیسرے مبینہ رپورٹ میں ظلی نبوت کی اصطلاح استعمال کر کے سارا بھانڈا ہی پھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ ۱۸۷۰ء تک برٹش انڈیا میں یہ اصطلاح سرے سے مروج ہی نہیں تھی۔اس کا تصور انیسویں صدی کے آخر میں بانی دارالعلوم دیو بند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ( متوفی ۱۴ را پریل ۱۸۸۰ء) نے اپنی معرکۃ الاراء تالیف ” تحذیر الناس“ میں پیش فرمایا جو پہلی بار ۱۲۹۱ھ /۱۸۷۸ء میں مطبع صدیقی بریلی سے باہتمام مولوی محمد منیر صاحب نانوتوی شائع ہوئی اور دوبارہ آپ کی وفات کے بعد ۱۳۰۹ھ مطابق ۱۸۹۲ء خیر خواہ سرکار پریس ۳۷ 32