مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 22 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 22

//// ////// /////// "AT ANNEXATION THE JAGIRS OF THE FAMILY WERE RESUMED۔" ہے کہ:۔نیز منشی دین محمد ایڈیٹر میونسپل گزٹ لاہور نے یادگار در بار تاجپوشی کے صفحہ ۲۵۵ پر لکھا قصبہ قادیان جو ابتداء سے اس خاندان کا مستقر چلا آیا ہے۔اسلام پور قاضی ما جبھی کے نام سے موسوم تھا جواب کثرت استعمال سے قادیان ہی مشہور ہو گیا ہے۔اس خاندان کے ایک بزرگ مرزا گل محمد کو شہنشاہ دہلی کی جانب سے چوراسی مواضعات کی سرداری و جا گیر دی گئی۔مگر سلطنت مغلیہ کے انحطاط و زوال کے ساتھ دن بدن وہ بھی رو بہ تنزل ہوگئی اور الحاق کے موقعہ پر اس خاندان کی جا گیر ضبط ہوگئی۔“ ان حالات میں حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی شخصیت پر غداروں کی سر پرستی“ کا الزام کھلا جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے؟ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نے ۱۸۵۷ء میں تو صرف ” پچاس گھوڑے مع ساز و ۲۹ سامان وسواران اپنے خرچ پر دیئے مگر اس دور کی تمام بڑی بڑی مسلم ریاستوں نے اپنے بےشمار سپاہیوں ہتھیاروں اور روپوں کے ذریعہ انگریزی حکومت کی ایسی زبر دست مدد کی کہ انگریز ملک گیر بغاوت کو کچلنے اور ملک میں اپنی حکومت کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔اگر یہ مسلم ریاستیں ۱۸۵۷ء میں انگریز کی پشت پناہی نہ کرتیں تو برصغیر کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا اور پورا ملک ہندوراج کے زیر نگیں ہو جاتا اور مسلمان مستقل طور پر ہندوؤں کے غلام بن جاتے۔اس سلسلہ میں بطور نمونہ چند مشہور مسلم ریاستوں کی ۱۸۵۷ء کے دوران کی خدمات کا ذکر کیا جاتا ہے۔22