مذہب کے نام پر فسانہ — Page 17
//////// دوبارہ غلبہ پا کر باغیوں کی سرکوبی شروع کی تو جن بزدل مفسدوں کو سوائے اس کے اپنی رہائی کا کوئی چارہ نہ تھا کہ جھوٹی سچی تہمتوں اور مخبری کے پیشے سے سرکاری خیر خواہ اپنے کو ظاہر کریں انہوں نے اپنا رنگ جمایا اور ان گوشہ نشین حضرات پر بھی بغاوت کا الزام لگایا۔۔۔۔۔علی حضرت کے قدس سرہ نے اسی قصہ میں اپنے شیدائی بچوں یعنی مولانا قاسم العلوم اور خلف الرشید امام ربانی کو الوداع کہا۔۔۔۔۔حضرت مولا نا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ دیو بند میں روپوش تھے۔ہر چند کہ یہ حضرات حقیقتا بے گناہ تھے مگر دشمنوں کی یاوہ گوئی نے ان کو باغی و مفسد اور مجرم وسرکاری خطا وار ٹھہرا رکھا تھا۔اس لئے گرفتاری کی تلاش تھی۔مگر حق تعالیٰ کی حفاظت برس تھی اس لئے کوئی آنچ نہ آئی اور جیسا۔۔۔۔کہ آپ حضرات اپنی مہربان سرکار کے دلی خیر خواہ تھے تا زیست خیر خواہ 66 ہی ثابت رہے۔‘ ۱۸ غدر کے دس سال بعد ۳۰ رمئی ۱۸۶۷ ء کو دار العلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا۔حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی کی زندگی میں مدرسہ دیو بند انہی کے دینی نظریات اور سیاسی پالیسی پر قائم رہا جس کا نا قابل تردید ثبوت لیفٹنٹ گورنر کے ایک خفیہ معتمد انگریز مسٹر پامر کے درج ذیل ریمارکس ہیں جو اس نے ۳۱ /جنوری ۱۸۷۵ء بروز یک شنبه مدرسه دیو بند کے معاینہ کے بعد درج ریکارڈ کئے۔“ ”جو کام بڑے بڑے کالجوں میں ہزاروں روپیہ کے صرف سے ہوتا ہے وہ یہاں کوڑیوں میں ہو رہا ہے۔جو کام پر نسپل ہزاروں روپیہ ماہانہ تنخواہ لے 17