مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 16 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 16

//////// ہندوستان کیا بلکہ دنیا بھر میں ایسا مشہور و معروف ہے کہ شاید دوسرانہ جو دور بر پا کرنے کے پچھلے کھلے مجمعوں میں چرچے شروع ہوئے تھے۔انہوں نے کمپنی کے امن و عافیت کا زمانہ قدر کی نظر سے نہ دیکھا اور اپنی رحم دل گورنمنٹ کے سامنے بغاوت کا علم قائم کیا۔۔۔اس گھبراہٹ کے زمانے میں جبکہ عام لوگ بند کواڑوں گھر میں بیٹھے ہوئے کا نپتے تھے حضرت امام ربانی اور نیز دیگر حضرات اپنے کاروبار نہایت اطمینان کے ساتھ سرانجام دیتے ان ایام میں آپ کو ان مفسدوں سے مقابلہ بھی کرنا پڑا جوغول کے غول پھرتے تھے۔حفاظت جان کے لئے تلوار البتہ پاس رکھتے تھے اور گولیوں کی بوچھاڑ میں بہادر شیر کی طرح نکلے چلے آتے تھے۔ایک مرتبہ ایسا بھی اتفاق ہوا کہ حضرت امام ربانی اپنے رفیق جانی مولانا قاسم العلوم اور طبیب روحانی اعلیٰ حضرت حاجی صاحب و نیز حافظ ضامن صاحب کے ہمراہ تھے کہ بندوقچوں سے مقابلہ ہو گیا۔یہ نبرد آزما دلیر جتھہ اپنی سرکار کے مخالف باغیوں کے سامنے سے بھاگنے یا ہٹ جانے والا نہ تھا۔اس لئے اٹل پہاڑ کی طرح پرا جما کر ڈٹ گیا اور سر کار پر جانثاری کے لئے تیار ہو گیا۔چنانچہ آپ پر فائریں ہوئیں اور حضرت حافظ ضامن صاحب رحمۃ اللہ علیہ زیر ناف گولی کھا کر شہید بھی ہوئے۔“ پھر لکھا ہے:۔” جب بغاوت وفساد کا قصہ فرو ہوا اور رحم دل گورنمنٹ کی حکومت نے T 16