مذہب کے نام پر فسانہ — Page 8
7//////// //////▬▬TIT ملتان سے اردو تر جمہ کی اشاعت جب مغربی اور مشرقی پاکستان کے انگریزی دان طبقہ میں یہ پمفلٹ بکثرت پھیلایا جاچکا تو کئی سال بعد شعبہ نشر واشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے اس کا اردو ترجمہ حسب ذیل الفاظ میں شائع کیا۔بسم اللہ الرحمن الرحیم سوچنے کی بات ۱۸۵۷ء وہ پر آشوب دور تھا جبکہ ہندوستان پر مسلمان حکومت کی جگہ انگریزی حکومت لے رہی تھی۔اہل اسلام نے انگریزی حکومت کے خلاف علم جہاد بلند کیا۔اس مقدس جہاد میں بہادر شاہ ظفر سے لے کر ایک عامی مسلمان تک علمائے اسلام کی قیادت میں ہر کہ ومہ نے حصہ لیا۔اگر مسلمانوں سے ہی غداروں کی سر پرستی دکن کے صادق بنگال کے جعفر پنجاب کے مرزا غلام مرتضی نہ کرتے تو آج دنیائے اسلام کا نقشہ اور ہی ہوتا۔چونکہ اقوام ہند سے مسلمان ہی سب سے زیادہ انگریز سے برسر پیکار تھا۔اس لئے بارہ برس بعد جب کہ ہندوستان پر نصرانی حکومت اپنے ظلم وستم اور بعض نام نہاد مسلمانوں کی امداد کے ذریعے مکمل قبضہ حاصل کر چکی تھی۔۱۸۶۹ء میں انگریزوں نے ایک کمیشن لنڈن سے ہندوستان بھیجا تا کہ وہ انگریز کے متعلق مسلمان کا مزاج معلوم کرے اور آئندہ کے لئے مسلمان کو رام کرنے کے لئے تجاویز مرتب کرے۔اس کمیشن نے ایک سال ہندوستان 8