مذہب کے نام پر فسانہ — Page 81
۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب دیوبندی مذہب کا علمی محاسبه از مولوی غلام مہر علی صاحبہ گولڑوی صفحه ۲۳۸۶۰-۲۵۲ ناشر کتب خانہ مہر یہ چشتیاں ضلع بہاولنگر۔جولائی ۱۹۵۶ء۔قبل ازیں ۱۳۸۶ھ بمطابق ۱۹۸۷ء کی روداد میں اس کا ذکر اشارہ کر دیا گیا تھا۔۔اس تحریری موقف میں یہ مبینہ حوالہ جمعیۃ علماء اسلام سرگودھا کے پمفلٹ کی بجائے عجمی اسرائیل کے حوالہ سے درج ہوا ہے جس سے اس قیاس کو تقویت ملتی ہے کہ اس کی دریافت کا سہرا جناب شورش صاحب کے سر ہے۔ا۔اسباب بغاوت ہند صفحہ ۱۰۶۔ناشرار دواکیڈمی سندھ مشن روڈ کراچی ۱۹۵۷ء۔لا۔داستان غدر صفحہ ۷۹۔مصنفہ راقم الدولہ سید ظہیر الدین ظہیر دہلوی ناشر اکادمی پنجاب ادبی دنیا منزل لا ہور جون ۱۹۵۵ء۔۱۲۔ایضا صفحہ ۱۰۸۔۱۰۹۔۱۳۔بہادر شاہ کا مقدمہ صفحہ ۱۶۱۔مولفه خواجہ حسن نظامی دہلوی اشاعت جولائی ۱۹۲۰ء۔یہ کتاب الفیصل اردو بازارلا ہور نے اپریل ۱۹۹۰ء میں دوبارہ شائع کی ہے۔۱۴۔ایضا مقدمہ بہادر شاہ ظفر ۹۶-۹۷- ۱۵۔اسباب بغاوت ہند صفحہ ۱۰۷۔۱۶۔مولوی محمد ایوب صاحب قادری نے لکھا ہے کہ ۲۲ مئی ۱۸۵۷ء کو نماز جمعہ کے بعد مولا نا محمد احسن صاحب ( نانوتوی) نے بریلی کی مسجد نو محلہ میں مسلمانوں کے سامنے ایک تقریر کی اور اس میں بتایا کہ حکومت سے بغاوت کرنا خلاف قانون ہے۔( مولا نا محمد احسن نانوتوی صفحه ۴۹ ناشر مکتبه عثانیہ پیر الہی بخش کالونی کراچی نمبر ۵ مطبوعہ ۱۹۶۶ء) کا۔حاجی امداداللہ کی مراد ہیں۔81