مذہب کے نام پر فسانہ — Page 71
مصنف نے اپنی تازہ تصنیف میں اس راز سر بستہ سے پردہ اٹھانے کی کوشش فرمائی اور لکھا ۹۲ کہ یہ کمشن برٹش پارلیمنٹ کے ممبروں، بعض انگلستانی اخبار کے ایڈیٹروں اور چرچ آف انگلینڈ کے نمائندوں پر مشتمل تھا۔حیرت ہے کہ مطبوعہ رپورٹ کے مطابق جب کہ یہ بھاری وفد ایک سال تک ہندوستان کا سروے کرتا رہا مگر کسی نے ہندوستان یا انگلستان کے اخبارات نے اس کی کوئی خبر شائع نہ کی۔کتاب کے مصنف نے مزید لکھا:۔66 یہ وفد وائسرائے کینگ (CANNING) کے مشیر کی یاد داشت کے بعد گیا تھا۔جو ملکی حالات خطرات سے متعلق تھی۔اس وفد نے ۱۸۷۵ء میں حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کی۔‘ ۹۳ ۱۱۔احراری پمفلٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انگریزی کمیشن نے ۱۸۷۰ء میں اپنی رپورٹ پیش کی تھی مگر یہ صاحب اس کو غلط قرار دیتے ہوئے اصل سال ۱۸۷۵ء بتلاتے ہیں جس سے اس پر اسرار اور مفروضہ کہانی کا سارا جال ہی بکھر جاتا ہے۔دوسرے انہوں نے اپنی شان مورخانہ کی عوام کالانعام پر دھاک بٹھانے کے لئے یہ تحقیق پیش کر کے علمی دنیا کو چونکا دیا ہے کہ یہ وفد وائسرائے کیٹنگ (CANNING) کے مشیر کی یادداشت کے بعد گیا تھا۔“ یہ ایک انتہائی مضحکہ خیز دعوی ہے جس پر جتنا بھی ماتم کیا جائے بہت کم ہے۔وجہ یہ کہ مستند برطانوی تاریخ سے ثابت ہے کہ لارڈ کیننگ 71