مذہب کے نام پر فسانہ — Page 2
حالات میں اس کے وجوب تک فتوی دیا گیا ہے۔ان فتاویٰ کے مطابق مخالف احمدیت علماء مدت سے جماعت احمدیہ کے خلاف جھوٹ ، بہتان طرازی اور افتراء پردازی کا بازار گرم کئے ہوئے تھے۔حتی کہ تصویر سازی کو ناجائز سمجھنے کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کے اپنے ہاتھوں بوگس فوٹو بنانے اور کھلے بندوں شائع کرنے شروع کر دیئے اور یہ سب ختم نبوت“ کے مقدس نام کی آڑ میں کیا جار ہا تھا۔ھے کے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولبی ان نام نہاد محافظین ختم نبوت ' کی ساری سرگرمیاں صرف حضرت بانی سلسلہ یہ کو گالیاں دینے اور احمدیوں کے خلاف فتنہ برپا کرنے کے لئے وقف تھیں اور وہ اس کو ”جہاد“ کا نام دیتے تھے اور اب بھی دیتے ہیں۔حق تعالیٰ نے ان کے حقیقی چہرہ سے نقاب اتارنے کے لئے یہ سامان فرمایا کہ بریلوی علماء خم ٹھونک کر ان کے خلاف میدان میں آگئے اور انہیں للکارا کہ وہ کانگرس اور برطانیہ دونوں کے خود کاشتہ پودا اور تنخواہ دار ایجنٹ رہے ہیں اور انہوں نے دیو بندی لٹریچر ہی سے ثابت کر دکھلایا کہ ان کی تبلیغی جماعت اور جمعیت علماء اسلام انگریز کے ایماء سے قائم ہوئی تھی۔کے سرحد کے ایک احراری رہنما جناب سید عبد اللہ شاہ صاحب مدیر روز نامہ الفلاح پشاور کی چشمد ید شہادت ہے کہ مولانا غلام غوث ہزاروی سے ملاقات پہلی دفعہ ۱۹۳۷ء میں ہوئی۔مولانا غلام غوث ہزاروی کے دورخ تھے۔ایک طرف وہ مجلس احرار سرحد /// 2