مذہب کے نام پر خون — Page 74
۷۴ مذہب کے نام پرخون اگر انگریز کے خود کاشتہ پودوں نے یہی کام سرانجام دینے تھے تو کاش انگریز اپنے دور حکومت میں ان صفات کے اور بھی دو چار خود کاشتہ پودے لگا جاتے تا کہ اسلام کل زندہ ہونے کے بجائے آج زندہ ہو جا تا اور عیسائیت کل مرنے کے بجائے آج مرجاتی۔اب دیکھئے احمدیت کے بارے میں میرا یقین اور ایمان اس فتویٰ سے کتنا مختلف ہے جو مولانا مودودی اس جماعت کے بارے میں صادر فرماتے ہیں۔میں تو اس جماعت کی عمارت کو اس گہرے عشق پر قائم دیکھتا ہوں جو غیر متزلزل طور پر اس جماعت کے بانی کے دل میں خدا اور اس کے رسول کے لئے جاگزیں تھا اور جس کا اظہار آپ اپنے ایک شعر میں اس طرح فرماتے ہیں کہ :۔بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر ایں بود بخد اسخت کا فرم میں تو خدا کے بعد محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے عشق میں مخمور ہوں۔اگر کفر یہی ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔“ مگر مولانا کے نزدیک اس جماعت کی جڑیں سرزمین انگلستان میں پیوستہ ہیں۔کیا کوئی بھی نسبت ہے ان دونوں اعتقادات میں؟ پھر اس مثال کو الٹا کر اس طرح بھی ملاحظہ فرما لیجئے کہ مولانا کے نزدیک ”جماعت اسلامی“ اس لئے قائم کی گئی ہے کہ ”صالحین کی ایک جماعت تیار کی جائے جو اسلامی عبادات کو لمبے عرصہ تک نہایت سختی کے ساتھ ادا کرنے کے بعد اس قابل ہو جائے کہ اسلام ان سے کہہ سکے کہ :۔’ہاں اب تم روئے زمین پر خدا کے سب سے زیادہ صالح بندے ہو۔لہذا آگے بڑھو لڑ کر خدا کے باغیوں کو حکومت سے بے دخل کر دو اور حکمرانی کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لو۔“ چنانچہ مولانا کی کوششوں سے روئے زمین پر خدا کے سب سے زیادہ صالح بندوں کی جماعت تیار ہو چکی ہے اور اب صرف اس بات کا انتظار ہے کہ کب اتنی طاقت پیدا ہو کہ لڑ کر خدا کے باغیوں کو حکومت سے بے دخل کر کے حکمرانی کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لئے جائیں۔مولا نا سمجھتے ہیں کہ یہ جماعت خالصہ دنیا کی اصلاح اور اسلام کا بول بالا کرنے کی غرض سے