مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 290 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 290

۲۹۰ مذہب کے نام پرخون متحارب مسلمان قوموں ( ایران و عراق) کے طرز عمل کی روشنی میں اس سر تا پا غلط پراپیگینڈے پر حیرت کا اظہار بے محل ہے۔اس کے علاوہ بعض اضافی فائدے بھی ہیں جو ان قوموں ہی کو پہنچتے ہیں جو خود جنگ کی منصوبہ بندی کرتی ہیں، اسے عملی جامہ پہناتی ہیں اور مسلم امہ کے متحارب حصوں کو تباہی پھیلانے والے آلات مہیا کرتی ہیں۔66 طرفہ تماشہ یہ ہے کہ گزشتہ دہائی میں مغربی ذرائع ابلاغ نے ”اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح کے علاوہ اسی طرح کی ایک اور عجیب و غریب اصطلاح بھی وضع کی ہے اور وہ ہے اسلامی ایٹم بم کی اصطلاح۔پاکستان پر الزام یہ لگایا جارہا ہے کہ اس کے پاس یہ بم موجود ہے۔بات یہی ہے کہ جو مغربی ذرائع ابلاغ ”اسلامی دہشت گردی کی سراسر غلط اور دور از کار اصطلاح وضع کر سکتے ہیں ان کے زرخیز دماغوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ اسلامی ایٹم بم کی اصطلاح بھی وضع کر کے اسے زیادہ سے زیادہ ہوا دیتے اور پھیلاتے۔اس لحاظ سے تو ہوسکتا ہے کہ جنگ کے دوران ہلاکت پھیلانے والے مختلف ہتھیاروں اور نت نئے طریقوں کے ساتھ ”اسلامی“ کا سابقہ لگا کر اور قتل و غارت گری کے خود اپنے ایجاد کردہ تمام پہلوؤں کو اسلام کی طرف منسوب کر کے مغربی ذرائع ابلاغ کی طرف سے اسے مزید بد نام کرنے کا سلسلہ چل نکلے لیکن سوال یہ ہے کہ اسی انداز پر مسیحی ایٹم بم ، ہندو ایٹم بم نسلی مغائرت کا ایٹم بم یا شنٹو بم وغیرہ کا تذکرہ کیوں سننے میں نہیں آتا؟ عجیب بات یہ ہے کہ ہزاروں مذہبی بموں کا تذکرہ چھیڑنے کے امکان کے باوجود مغربی ذرائع ابلاغ نے صرف ایک مذہبی بم کو چنا ہے اور اس کے خلاف آواز بلند کر کے زمین و آسمان کے قلابے ملانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ، اور وہ ہے ان کا مزعومہ اسلامی ایٹم بم ، حالانکہ مسیحی اور یہودی ایٹم بموں کے مقابلہ میں جن کا وجود حتمی اور یقینی ہے اس مزعومہ اسلامی ایٹم بم کا وجود سرے سے ہی مشکوک اور غیر یقینی ہے۔جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ اسلامی ملکوں میں تشد د پر یقین رکھنے والے جو عناصر برسر کار ہیں وہ اپنے طرز عمل کے لحاظ سے حقیقی معنوں میں اسلامی ہیں ہی نہیں۔تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب بھی اسلامی ملکوں میں بعض عناصر دہشت پھیلانے والی تخریبی سرگرمیوں میں ملوث