مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 266

۲۶۶ کو سراسر غلط اور نار وارنگ میں استعمال کرنا ان کا عام وطیرہ ہوتا ہے۔لے مذہب کے نام پرخون آج تو علمائے دیوبند اور علمائے اہل حدیث احمدیوں پر یہ الزام عائد کرنے میں بہت پیش پیش ہیں کہ احمدی ( نعوذ باللہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے ہیں لیکن وہ اس احساس سے عاری ہیں کہ وہ احمد یوں پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگا کر خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماررہے ہیں اور خود اپنی تباہی کا اپنے ہاتھوں سامان کر ہے ہیں۔اصل صورت حال یہ ہے کہ دیو بندی ، اہل حدیث اور امام عبدالوہاب مجدی کے پیر ونجد کے سوا باقی دنیا میں سینوں کے بالمقابل (جو اپنے آپ کو سوادِ اعظم کہتے ہیں ) اقلیت میں ہیں۔برصغیر پاک و ہند سمیت پورے عالم اسلام میں اکثریت سنیوں ہی کی ہے۔سنیوں کی طرف سے دیو بندیوں اور اہل حدیث پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو گرا کر آپ کی تو ہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔اُدھر دیو بندی اور وہابی علماء سواد اعظم یعنی سنیوں کو (جو غالب اکثریت میں ہیں ) کافر سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا یہ ہے کہ سنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی صفات منسوب کرتے ہیں جن سے شرک لازم آتا ہے اور وہ ایسا کرنے کے باعث اور کچھ نہ سہی مشرک بنے بغیر نہیں رہتے۔مثال کے طور پرستی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر کا زمین پر سایہ نہ پڑتا تھا، وجہ اس کی وہ یہ بتاتے ہیں کہ آنحضور تو تھے ہی مجسم نور۔اسی طرح جب ترکی کے شاعر سلیمان چلیبی آف بصرہ (۱۴۱۰ء) نے میلا د شریف کی محفلیں منعقد کرنا شروع کیں اور ان کے انعقاد کا رواج چل نکلا تو حسب رواج ہر محفل درود و سلام پر ختم ہوتی تھی اور سب حاضریں " يَا نَبِي سَلَام عَلَيْكَ “ کا ورد کرتے تھے رفتہ رفتہ اس خیال نے با قاعدہ عقیدے کی شکل اختیار کر لی کہ اس وقت چونکہ محفل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح آموجود ہوتی ہے اس لئے لازمی ہے کہ جملہ حاضرین احتراماً کھڑے ہو جایا کریں اور پھر ” یا نیٹی سَلَام عَلَيْكَ “ کا ورد کر کے آپ کی خدمت میں سلام عرض کرنے کی سعادت حاصل کیا کریں۔اسی طرح بریلوی حضرات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر حاضری دے کر وہاں آنحضور سے دعائیں مانگنے کو جائز سمجھتے ہیں۔وہاں احتراماً جھکتے اور روضہ مبارک کی جالیوں کو چومتے مثال کے لئے دیکھیں منیر انکوائری کمیشن رپورٹ (اردو تر جمہ ) صفحہ ۲۷۸،۲۷۷ لے ،،