مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 258 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 258

۲۵۸ مذہب کے نام پرخون فَاصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ اِخْوَانًا - (آل عمران: ۱۰۱ تا ۱۰۴) ترجمہ: اے مومنو! اگر تم ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی تھی کسی فریق کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہارے ایمان لے آنے کے بعد پھر تمہیں کافر بنادیں گے اور تم کس طرح کفر کرو گے جبکہ تم وہ لوگ ہو جنہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول (موجود) ہے۔اور جو شخص اللہ کی پناہ لے تو ( سمجھو کہ ) اسے سیدھی راہ پر چلا دیا گیا۔اے ایماندارو! اللہ کا تقویٰ اس کی تمام شرائط کے ساتھ اختیار کرو اور تم پر صرف ایسی حالت میں موت آئے کہ تم پورے فرمانبردار ہو اور تم سب ( کے سب ) اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور پراگندہ مت ہو اور اللہ کا احسان جو (اس نے ) تم پر کیا ہے یاد کرو کہ جب تم (ایک دوسرے کے دشمن تھے ، اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی جس کے نتیجہ میں تم اس کے احسان سے بھائی بھائی بن گئے۔یہ امر ظاہر وباہر ہے کہ یہ تھی مدینہ میں یہود کی طرف سے پھیلائی ہوئی شرانگیزی اور مفسدہ پردازی کی وہ فضا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شاعروں کے پراپیگینڈے کے سلسلہ کو بند کرنے کا فیصلہ فرمایا اور انہیں قتل کرنے کے لئے بعض رضا کا ر طلب فرمائے۔وہ امن و امان کے لئے بہت بڑا خطرہ بنے ہوئے تھے۔یہ کہنا کہ انہیں اس لئے قتل کیا گیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے اور آپ کی توہین کرتے تھے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کرنے والوں کو موت کی سزا کا مستوجب ٹھہرانے کے لئے ان فتنہ پرداز شاعروں کے قتل کو بطور مثال استعمال کرنا کھلی بددیانتی ہے یا پھر اسے تاریخی حقائق سے لاعلمی اور عدم واقفیت پر محمول کرنا ناگزیر ہو گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا ارتکاب (جس کے لئے سب کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ) نہ قرآن کی رو سے ایسا جرم ہے کہ جس پر حد جاری ہو سکتی ہو اور نہ سنت کی رو سے ایسا جرم قرار پاسکتا ہے جس کی سزا موت ہو۔محض توہین رسالت تا وقتیکہ اضافی مجرمانہ عوامل و حالات موجود نہ ہوں قابل سزا جرم ہے ہی نہیں۔ارتداد کی طرح اس کی سزا دینا بھی صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔اللہ اور اس کے رسولوں کی عزت و ناموس کے قیام کے سلسلہ میں