مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 215 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 215

۲۱۵ مذہب کے نام پرخون ارتداد کی سزا کا مسئلہ قبل ازیں ہم کتاب ہذا کے بعض ابواب میں قرآن مجید اور تاریخ اسلام کے متعدد حوالوں کی رو سے عقیدہ قتل مرتد کا باطل ہونا واضح کر چکے ہیں۔اس عقیدہ کے حق میں بالعموم جو دلائل پیش کئے جاتے ہیں ہم نے ان کا تفصیلی جائزہ لے کر ان کا رڈ پیش کیا تھا۔اس ضمن میں عکرمہ کی روایت اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں منکرین زکوۃ سے متعلق رونما ہونے والے واقعات کا جائزہ بھی لیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ اس سے قطعا یہ امر ثابت نہیں ہوتا کہ جولوگ اسلام ترک کر کے کوئی اور مذہب اختیار کر لیں اسلام نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ہم نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اس روایت اور ان واقعات سے عقیدہ قتل مرتد کے حامی جواستدلال کرتے ہیں اس کا اصل حقائق سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔اب اس باب میں ہم قتل مرتد کے حامیوں کے پیش کردہ بعض مزید دلائل کا جائزہ لے کر واضح کریں گے کہ یہ دلائل بھی اپنے اندر قطعاً کوئی وزن نہیں رکھتے۔یہ اندازہ لگانا آسان نہیں ہے کہ اسلام میں جبر کا نظریہ کیسے داخل ہوا یعنی آیا کسی اسلامی سرزمین میں اس نظریہ نے جنم لیا یا یہ نظریہ ہے تو مستشرقین کے دماغ کی پیداوار لیکن انہوں نے بعد میں اسے اسلام کی جھولی میں ڈال دیا۔اسلامی تاریخ کی روشنی میں اس سارے معاملہ کا گہری نظر سے جائزہ لینے کے بعد میں جس نتیجہ پر پہنچا ہوں اس کی رو سے میں پوری دیانتداری سے اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ اولاً یہ نظریہ خود اسلامی دنیا کی اپنی پیداوار ہے اور ہمارا اسے مستشرقین کے ذہن کی اختراع قرار دینا ہرگز درست نہیں ہے۔انہوں نے اس نظریہ کو خود مسلمانوں سے اخذ کیا اور پھر اسے مسلمانوں ہی کے خلاف استعمال کر کے اسلام کو بدنام کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔اس وقت اور اس زمانہ میں جبکہ ابھی مستشرقین کا کہیں نام ونشان نہ تھا قرون وسطی کے اسلامی طرز فکر میں جبر کا نظریہ