مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 185

۱۸۵ مذہب کے نام پرخون اس کے رسول ذمہ دار ہیں۔اللہ کی اس ذمہ داری کی ہر گز خلاف ورزی نہ کرو۔لیکن مولانا مودودی اور دوسرے علماء نے جو مسلم ممالک میں آمریت یا مطلق العنان بادشاہت پر مبنی حکومتوں کے زیر دست اور مؤید ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان فرمودہ اس سیدھی سادی تعریف میں اپنی طرف سے بھی بعض شرائط کا اضافہ کر ڈالا ہے۔اگر حضرت امام غزالی ۴۵۰ ه تا ۵۰۵ ھ مطابق ۱۰۵۸ء تا ۱۱۱۳ء) کے الفاظ کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو ایسے علماء نے جنت پر گنے چنے مولویوں کے مختصر ٹولے کا خصوصی استحقاق جتانے کی خاطر اللہ کی رحمت بے پایاں کو محدود کر کے رکھ دیا ہے۔پاکستان کے ایک سابق چیف جسٹس جناب جسٹس محمد منیر نے جو ۱۹۵۳ء کے فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت کے پریذیڈنٹ تھے۔ایسے علماء کی اس تمام تر تگ و دو کے نتائج پر خلاصہ ان الفاظ میں روشنی ڈالی ہے وہ لکھتے ہیں:۔66 علماء کی بیان کردہ مختلف تعریفوں کو پیش نظر رکھ کر کیا ہماری طرف سے کسی تبصرے کی ضرورت ہے؟ بجز اس کے کہ دین کے کوئی دو عالم اس بنیادی امر ( یعنی مسلمان کی تعریف) پر متفق نہیں ہیں؟ اگر ہم اپنی طرف سے مسلم کی کوئی تعریف کر دیں جیسے ہر عالم دین نے کی ہے اور وہ تعریف ان تعریفوں سے مختلف ہو جو دوسروں نے پیش کی ہیں تو ہم کو متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا اور اگر ہم علماء میں سے کسی ایک کی تعریف کو اختیار کر لیں تو ہم اس عالم کے نزدیک مسلمان رہیں گے لیکن دوسرے تمام علماء کی تعریف کی رو سے کافر ہو جا ئیں گے سے ،، جسٹس منیر کے اس فکر انگیز اظہارِ خیال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سرزنش کی روشنی میں پڑھا جائے جو آپ نے ایک خاص موقع پر اسامہ بن زید کو فرمائی تھی تو اصل حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ابن الحق نے لکھا ہے کہ غزوہ غالب بن عبداللہ الکبی میں اسامہ بن زید اور ایک اور شخص صحیح البخارى كتاب الصلوة باب استقبال القبلة 66 الغزالي فيصل التفرقة بين الاسلام والزندقة قاهره١٩٠١ء رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب (اردو ) ۱۹۵۳ صفحه ۲۳۶،۲۳۵