مذہب کے نام پر خون — Page 120
مذہب کے نام پرخون اس معذرت کے بعد اب میں وہ الفاظ نقل کرتا ہوں جو خود مودودی صاحب کے الفاظ ہیں تا کہ اگر میں نے کسی نتیجہ تک پہنچنے میں غلطی کھائی ہو تو احباب خود درستی فرمالیں:۔اگر آگے چل کر کسی وقت اسلامی نظام حکومت قائم ہو (خیال رہے کہ یہ مضمون ۱۹۴۲ء میں لکھا گیا تھا۔ناقل ) اور قتل مرتد کا قانون نافذ کر کے ان سب لوگوں کو بزور اسلام کے دائرے میں مقید کر دیا گیا جو مسلمانوں کی اولا دہونے کی وجہ سے اسلام کے پیدائشی پیر و قرار دیئے جاتے ہیں تو اس صورت میں بلاشبہ یہ اندیشہ ہے کہ اسلام کے نظام اجتماعی میں منافقین کی ایک بہت بڑی تعدا د شامل ہو جائے گی جس سے ہر وقت ہر غداری کا خطرہ رہے گا۔“ میرے نزدیک اس کا حل یہ ہے کہ وَاللهُ الْمُوَقِّقُ لِلضَّوَابِ کہ جس علاقہ میں اسلامی انقلاب رونما ہو وہاں کی مسلمان آبادی کو نوٹس دے دیا جائے کہ جو لوگ اسلام سے اعتقاداً وعملاً منحرف ہو چکے ہیں اور منحرف ہی رہنا چاہتے ہیں تاریخ اعلان سے ایک سال کے اندر اندر اپنے غیر مسلم ہونے کا باقاعدہ اظہار کر کے ہمارے نظام اجتماعی سے باہر نکل جائیں۔اس مدت کے بعد ان سب لوگوں کو جو مسلمانوں کی نسل سے پیدا ہوئے ہیں مسلمان سمجھا جائے گا۔تمام قوانین اسلامی ان پر نافذ کئے جائیں گے۔فرائض و واجبات دینی کے التزام پر انہیں مجبور کیا جائے گا اور پھر جو دائرہ اسلام سے باہر قدم رکھے گا اسے قتل کر دیا جائے گا۔اس اعلان کے بعد انتہائی کوشش کی جائے کہ جس قدر مسلمان زادوں اور مسلمان زادیوں کو کفر کی گود میں جانے سے بچایا جا سکتا ہے بچا لیا جائے۔پھر جو کسی طرح نہ بچائے جاسکیں انہیں دل پر پتھر رکھ کر ہمیشہ کے لئے اپنی سوسائٹی سے کاٹ پھینکا جائے اور اس عمل تطہیر کے بعد اسلامی سوسائٹی کا آغاز صرف ایسے مسلمانوں سے کیا جائے جو اسلام پر راضی ہوں لے ،، ل مرتد کی سز ا صفحہ ۸۱،۸۰