مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 109 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 109

۱۰۹ مذہب کے نام پرخون محروم کر کے زندہ رہنے دیا جائے یا پھر اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جائے۔پہلی صورت فی الواقع دوسری صورت سے شدید تر سزا ہے کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ لا یموت فِيهَا وَلَا يخيلی کی حالت میں مبتلا رہے۔۔۔۔۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ اس کو موت کی سزا دے کر اس کی اور سوسائٹی کی مصیبت کا بیک وقت خاتمہ کر دیا جائے لے، کیا یہ بعینہ اس سرخ پوش کی آواز کی سی آواز نہیں ہے جو مجمع میں کھڑا حاضرین کو یہ یقین دلا رہا ہو کہ اندھو۔نابیناؤ۔مان لو کہ میرے کپڑوں کا رنگ سبز ہے۔“ لیکن اگر رنگ واقعی سبز ہے اور ہم نے غلطی کھائی ہے تو مولانا کو میرا مشورہ یہی ہے کہ ذرا دھیمی آواز میں بات کریں۔اگر اس آتش زار کے بسنے والے کفار کے کانوں تک یہ آواز جا پہنچی جن کا ابھی کچھ دیر پہلے تذکرہ گزرا ہے تو کیا انہیں اس خیال سے دھکا نہیں لگے گا کہ دعوے تو یہ تھے کہ جو کچھ کیا جارہا ہے تمہاری ہی ہمدردی اور بہبود کی خاطر ہے مگر جب قسمتوں کی تقسیم کا وقت آیا تو رحم تو اپنوں کی جھولی میں ڈال دیا اور ظلم ہمارے دامن میں۔حالانکہ جرم دونوں کا ایک ہی نوعیت کا تھا۔وہ کفار مولانا سے متعلق کیا کیا نہ خیال دل میں لائیں گے اور کیسے کیسے ظن ان پر نہ کریں گے؟ اس لئے بہتر ہے کہ یہ اپنی آواز کو دھیما کریں اور کیوں نہ بس اسی امر پر اکتفاء ہو جائے کہ قتل سے کچھ دیر پہلے صرف مرتدین کے کانوں ہی میں سرگوشی کر دی جائے کہ میاں غلط نہی میں مبتلا نہ رہنا۔فی الواقع تم ستے چھوٹے ہو اور تم سے استثنائی طور پر رحم کا سلوک کیا گیا ہے اور جاتے جاتے مزید ہمدردی کے اظہار کے طور پر ان کا ہاتھ بھی دبا دیا جائے اور رازداری کے رنگ میں نظریں ملا کر مسکراتے ہوئے ، اور اگر حسن اتفاق سے کوئی کافر وہاں موجود ہو تو اس کی طرف سر کا اشارہ کرتے ہوئے یہ الفاظ بھی بڑھا دیئے جائیں کہ دیکھتے نہیں ان لوگوں کا کیا حال ہے؟ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَخيلى نہ تو یہ مرتا ہے نہ زندہ رہتا ہے۔مگر مودودی صاحب یہ ہمدردانہ سلوک تجویز فرماتے ہوئے غالباً ایک بات بھول گئے کہ اسلام کے نزدیک موت فی ذاتہ انجام نہیں ہے بلکہ اس کے بعد پھر ایک زندگی ہوگی جس کا نام اسلام لے مرتد کی سز ا صفحه ۵۱