مذہب کے نام پر خون — Page 277
۲۷۷ مذہب کے نام پرخون زندگی بسر کر سکتا ہے؟ جہاں تک شاہ کے آمرانہ دور اقتدار میں زندگی بسر کرنے والے ایرانیوں کا تعلق ہے ان کی طرف سے اس سوال کا ایک ہی جواب تھا کہ ”نہیں“۔وہ ملکی معاملات کو چلانے میں پوری ذمہ داری کے ساتھ حصہ لینے کے متمنی تھے۔وہ محض اس بات پر اکتفا کرنے کے لئے تیار نہ تھے کہ انہیں پیٹ بھر کر روٹی ملتی رہے اور ان کی دیگر ضروریات پوری ہوتی رہیں۔عزت نفس اور شخصی وقار کی خواہش اور ظلم و تشدد کے ایک انتہائی مربوط نظام سے چھٹکارے کی تمنا نے انہیں مضطرب کر چھوڑا اور وہ حالات میں تبدیلی کی خاطر سب کچھ کر گزرنے پر تل گئے۔یہ صورتِ حال اس امر کی آئینہ دار تھی کہ ایک پر تشد د خونی انقلاب کے لئے زمین پوری طرح ہموار ہو چکی ہے۔جنونی کیفیت کی حامل جس افراتفری نے ایران کو ہر چہار اطراف میں ایک سرے سے لے کر دوسرے تک ہلا کر رکھ دیا وہ ناگزیر نتیجہ تھی اولاً طویل سیاسی گھٹن کا نیز بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی پامالی کا اور ثانیاً وہ نتیجہ تھی ایران کے اندرونی معاملات میں ایک عظیم مغربی طاقت کی مفاد پرستی پر مبنی ناجائز مداخلت کا۔پورا ملک اس حقیقت سے اچھی طرح باخبر تھا کہ شاہ کے آمرانہ دور اقتدار کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کی پوری پوری تائید وحمایت اور امداد واعانت حاصل ہے۔اس کے خلاف عوام کا جذبہ حقارت و انتقام کچھ ایسا بھڑکا کہ شاہ کی حکومت اور اقتدار کا تختہ اُلٹنے اور ان اندرونی طاقتوں کو جو کسی نہ کسی رنگ میں بادشاہت کے قیام و دوام کی ذمہ دار تھیں ، ملیا میٹ اور تہس نہس کرنے پر بھی سر نہ پڑا۔امریکی حمایت و امداد کا احساس شاہ میں بدترین قسم کے آمرانہ رُجحانات کو ابھارنے کا باعث ہوا تھا۔شروع شروع میں تو شاہ کے رعب اور دبدبہ نے اپنا اثر جمایا اور لوگ مرعوب ہوئے بغیر نہ رہے لیکن رفتہ رفتہ رعب اور دبدبہ کا منفی اثر ظاہر ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ رُعب نے خوف اور دہشت کی شکل اختیار کر لی۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بغاوت کا خدشہ بڑھتا اور نتیجہ شاہ کا رویہ درشت سے درشت تر ہوتا چلا گیا۔یہ درشت رویہ رفتہ رفتہ ایران کو ایک پولیس سٹیسٹ میں تبدیل کرنے کا موجب بنا۔یہ بات ایرانیوں کے ذہن نشین ہوتی چلی گئی کہ اس پولیس سٹیٹ کو حکومت امریکہ کی بھر پور تائید و حمایت اور امداد و اعانت حاصل ہے اور یہ کہ شاہ کی حیثیت محض کٹھ پتلی کی سی ہے جس کے