مذہب کے نام پر خون — Page 227
۲۲۷ مذہب کے نام پرخون ساتھ قائم ہو چکا تھا۔اگر ارتداد کی سزا قتل مقر رتھی تو ایسی صورت میں یہودی خود کشی پر مبنی ایسی احمقانہ حکمت عملی کیسے وضع کر سکتے تھے؟ مسلمانوں کو وہ اس امر کی ترغیب کیسے دلا سکتے تھے کہ وہ اپنے مذہب پر اس رنگ میں عمل پیرا ہوں کہ دن میں تو اس کی صداقت کا اعتراف کریں اور دن کے آخری حصہ میں اس امر کا انکار کر دیا کریں درآنحالیکہ وہ جانتے تھے کہ جو مسلمان بھی اس طرح اپنا مذہب تبدیل کریں گے و قتل کر دیئے جائیں گے؟ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جو لوگ اس عقیدہ کے حامی ہیں کہ ارتداد کی سزا قتل ہے ان کا ایک عجیب وطیرہ یہ ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض احادیث کو دور از کارتاویلات کا سہارا لے کر غلط معانی پہناتے ہیں۔اور اس طرح بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں حالانکہ یہ وہ احادیث ہیں جن سے ان کے نظریہ کی قطعاً کوئی تائید نہیں ہوتی۔وہ جان بوجھ کر ایسی احادیث کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو اس امر پر شاہد ناطق ہیں کہ اس زندگی میں ارتداد کی سرے سے کوئی سزا ہے ہی نہیں۔اس ضمن میں ہم بات کو اس کے اختتام تک پہنچانے کی غرض سے ایک ایک کر کے اُن احادیث کو لیتے ہیں جو ارتداد کے لئے سزائے قتل کے حامیوں کی طرف سے بالعموم پیش کی جاتی ہیں۔(0) ابو قلابہ، حضرت اُن کی سند پیش کر کے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکال یا عرینہ کے لوگوں سے، جو آپ کے ساتھ ملاقات کے لئے حاضر ہوئے تھے، فرمایا کہ وہ مدینہ کے باہر جا کر آپ کی اونٹنیوں کے رکھوالے کے پاس قیام کریں گے۔ان لوگوں نے اونٹنیوں کے رکھوالے کو قتل کر دیا اور اونٹنیوں کے گلہ کو ہانک کر لے گئے۔اگر چہ یہ بات صحیح ہے کہ وہ سب مرتد ہو گئے تھے لیکن ان کو جو سزا دی گئی تھی وہ ارتداد کی پاداش کے طور پر نہیں دی گئی تھی بلکہ اونٹنیوں کے رکھوالے کو قتل کرنے کی وجہ سے دی گئی تھی۔(ب) جہاں تک ابن خطل کا تعلق ہے وہ بلا شبہ ان چار میں سے ایک تھا جنہیں فتح مکہ کے موقع پر قتل کیا گیا تھا اور وہ تھا بھی مرتد لیکن یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے ہمسفر کو قتل کر دیا تھا۔ظاہر ہے اس کے قتل کا حکم ارتداد کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے دیا گیا تھا کہ وہ خود قتل کا مجرم ثابت ہو چکا تھا۔