مذہب کے نام پر خون — Page 124
۱۲۴ مذہب کے نام پرخون قربان تست جان من اے یار یار محسنم با من کدام فرق تو کر دی کہ من کنم ے میرے یار محسن! تجھ پر میری جان قربان ہو تو نے لطف و احسان میں کب مجھ سے کوئی فرق کیا ہے جو میں کروں۔در گوئے تو اگر سر عشاق را زنند اول کسے کہ لافِ تعشق زند منم ہاں اے میرے پیارے رسول ! اگر تیرے کوچہ میں عشاق کا سر قلم کرنے کا ہی دستور ہو تو وہ پہلا شخص جو نعرہ عشق بلند کرے گا میں ہوں گا میں ہوں گا!