مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 75 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 75

۷۵ مذہب کے نام پرخون قائم کی گئی ہے تا کہ غیر اللہ کا تصور مٹادیا جائے اور نوک شمشیر سے اللہ کا تصور دلوں پر کندہ کر دیا جائے۔مگر میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ یہ بالکل غلط اور بے بنیاد بات ہے کہ مودودی جماعت کے اراکین’ روئے زمین پر خدا کے سب سے زیادہ صالح بندئے ہیں۔میرا یہ ایمان ہے کہ اگر چہ ہمیں یہ حق تو حاصل ہے کہ ہم عقائد کی رو سے کسی جماعت یا مذہب سے متعلق یہ فیصلہ کریں کہ وہ حق وصداقت رو یا پر مبنی ہے مگر ہمیں یہ حق ہر گز نہیں پہنچتا کہ اس دنیا میں اپنے متعلق یہ فتویٰ دیں کہ ہم نیک اور صالح ہیں سوائے اس کے کہ صالحیت کے غیر مشکوک آثار ظاہر ہوں اور اللہ تعالیٰ کے پیار کی علامات نظر آنے لگیں۔جس طرح وہ پہلے اپنے پیارے صالحین سے ہمکلام ہوتا رہا ہے اب بھی ہمکلام ہو جس طرح وہ پہلے امت کے صوفیاء اور بزرگان پر ظاہر ہوتا رہا ہے اب بھی دعویداران صالحیت پر ظاہر ہو۔ان کی نصرت فرمائے اور اپنی قولی اور فعلی شہادت سے یہ بات ثابت فرما دے کہ صالحیت کا دعوی کرنے والے واقعی صالح ہیں ورنہ انسان ریا کاری اور خوش فہمیوں کے چکر میں ایسا پھنسا ہوا اور فطرت انسانی کے پاتال تک کی خبر رکھتا ہے کہ کون صالح ہے اور کون غیر صالح ہے۔پس میرے نزدیک مودودی صاحب کا یہ دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے اور یہ بھی بالکل غلط ہے کہ ”جماعت اسلامی اسلام کا بول بالا کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے۔کیونکہ اگر اس جماعت کے وہی عقائد ہیں جو مولانا مودودی کے ہیں تو یہ اسلام کا بول بالا نہیں کر رہی بلکہ اسلام کو دنیا کی نظروں میں حقیر کر رہی ہے اور طبیعیتوں کو اس پاک مذہب سے سخت متنفر کر رہی ہے۔پاکستان کی مسلمان اکثریت کے ماحول میں بیٹھے ہوئے مولانا مودودی اسلام کے بول بالا ہونے کے جس قدر نعرے چاہے لگا لیں مگر ذرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اشاعت اسلام اور آپ کی پالیسی کے بارہ میں اپنے نظریات لے کر غیر اسلامی ملکوں میں تبلیغ کے لئے تو نکل کر دیکھیں خوب کھل جائے گا کہ ان نظریات سے اسلام کا کس قدر بول بالا ہو رہا ہے۔ذرا اس عقیدہ کو ہاتھ میں لے کر کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک آسمان پر زندہ موجود ہیں کسی عیسائی ملک کو اسلام کی طرف بلا کر تو دیکھیں اور اس ہتھیار سے کسر صلیب کی کوشش تو کریں پھر میں ان سے پوچھوں گا کہ بتائیے یہ مودودی نظریات اسلام اور اس کے مقدس رسول کے نام کا بول بالا کر رہے ہیں یا صورت برعکس ہے۔