مذہب کے نام پر خون — Page 1
مذہب کے نام پرخون بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تحمدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ انسان کی تاریخ خاک و خون میں لتھڑی پڑی ہے۔اس دن سے لے کر آج تک جب قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تھا اس قدر خون ناحق بہایا گیا ہے کہ اگر اس خون کو جمع کیا جائے تو آج روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے کپڑے اس خون میں رنگے جاسکتے ہیں بلکہ شائد اس پر بھی وہ خون بیچ رہے اور ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کے لباس بھی لالہ رنگ کرنے کے لئے کافی ہو مگر مقام حیرت ہے کہ اس پر بھی آج تک انسان کی خون کی پیاس نہیں بجھی ! قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل وہ پہلا خون ناحق ہے جس کا ذکر قرآن اور بائیبل نے آج تک ہمیں عبرت دلانے کے لئے محفوظ کر رکھا ہے اور یہ ذکر اس دن تک محفوظ رہے گا جس دن آخری انسان صفحہ ہستی سے نابود کیا جائے گا اور زمین کی صف لپیٹ دی جائے گی۔لیکن انسان جب تاریخی پس منظر میں انسانی کردار کا مطالعہ کرتا ہے اور پھر آج کی دنیا میں اپنے حال ، اپنے گرد و پیش پر ایک نظر دوڑاتا ہے تو یہ انکشاف ایک طعنہ بن کر اس کے دل میں پھانس کی طرح چھنے لگتا ہے کہ انسان پہلے بھی ظالم تھا اور آج بھی ظالم ہے۔پہلے بھی جابر تھا اور آج بھی جابر ہے۔اس کی سفا کی کی داستان طویل ہے اور اس داستان کے ابواب لامتناہی ہیں اور وہ خون کی پیاس جو قابیل کے دل میں بھڑ کی تھی آج بھی ان گنت سینوں میں بھڑک سکتی ہے۔یہ وہ آگ ہے کہ جو ہزاروں سال کی سیرابی کے بعد بھی ٹھنڈی نہ ہوسکی! انفرادی قتلوں کی مثالیں بھی لا تعداد ہیں ، بے شمار ہیں اس خون اجتماعی کی مثالیں بھی جو قوموں نے قوموں کے بہائے سمندر کی نہ تھکنے والی لہروں کی طرح ایک خطہ ارض کے بسنے والوں نے دوسرے خطہ ارض کے بسنے والوں پر چڑھائیاں کیں اور ہجوم در ہجوم اور غول در غول غارت گروں کے لشکر نے ممالک کی تسخیر کے لئے نکلے۔قیصر نے بھی خون بہایا اور کسری نے بھی۔اسکندراعظم کے