مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 56

۵۶ ایسے غزوات یا سرا یا جن میں جنگی قیدی ہاتھ آئے = ۴ جنگی قیدیوں کی کل تعداد = ۶۰۰۰ + ۶۲ + اسیرانِ بنو طی +۱ مذہب کے نام پرخون اس دور میں اسیروں کی تعداد گزشتہ سب ادوار سے غیر معمولی طور پر زیادہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ صرف ایک جنگ حنین ہی میں چھ ہزار کی تعداد میں دشمن اسیر ہوئے۔آئیے ہم دیکھیں کہ ان اسیروں سے رحمةٌ لِلعالمین نے کیا سلوک کیا۔کیا سب تہ تیغ کر دیئے گئے یا نوک خنجر پر مسلمان بنالئے گئے؟ نہیں۔ایک بھی نہیں بلکہ بلا استثناء سارے کے سارے غیر مشروط طور پر رہا کر دیئے گئے۔جنگ حنین کے چھ ہزار اسیروں کو رحمة للعالمین نے نہ صرف غیر مشروط طور پر رہا فرما دیا بلکہ ان میں سے بعض کو خلعتیں بھی عطا فرما ئیں اور انعام واکرام سے نوازا۔رحم وکرم کی حد یہ ہے کہ ان میں سے بعض قیدیوں کا فدیہ بھی اپنی جیب سے ادا فرمایا۔اسی قسم کے رحم و کرم کا سلوک بنی طے کے اسیران سے کیا اور حاتم کی بیٹی کو تو غیر معمولی اکرام کے ساتھ رخصت فرمایا۔اس کے علاوہ اس دور میں سریہ عیینہ بن حصین میں قبیلہ بنو تمیم کے باسٹھ اسیر مدینہ لائے گئے مگر اس قبیلہ کے سردار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رحم کی درخواست کی جس پر اس رحم مجسم نے ان سب کو رہا فرما دیا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ جو سلوک جنگی قیدیوں سے روا رکھا وہ نہایت کریمانہ اور فیاضانہ تھا۔ظالم تو ظلم کا بہانہ ڈھونڈا کرتا ہے مگر آپ رحم وکرم کا بہانہ ڈھونڈ تے نظر آتے ہیں۔بنو ہوازن کے قیدیوں کو معاف کرنے کا واقعہ بھی عجیب ہے اور اسی ایک واقعہ ہی سے مفتوحین کے بارے میں آپ کے جذبات اور طرز فکر کا پوری طرح اندازہ ہو جاتا ہے۔ان قیدیوں کے بارہ میں رحم کی درخواست کی غرض سے بنو ہوازن کا ایک وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو حضرت حلیمہ دائی کا واسطہ دے کر جو اسی قبیلہ کی تھیں آپ سے معافی کا طلب گار ہوا۔اس وقت آپ نے ان سے نہیں پوچھا کہ اب ہار کھا جانے کے بعد تمہیں اپنے قبیلہ کی وہ دائی یاد آ گئی جس نے مجھے دودھ پلایا تھا مگر جب تم مکہ پر حملہ کی تیاریاں کر رہے تھے یا جب حسنین کی وادی میں مجھ پر اور میرے ساتھ چند نرغے میں آئے ہوئے فدائیوں پر تیروں کی بارش برسارہے تھے تو اس وقت کیا تمہیں یاد نہ آیا کہ یہ تو