مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 34 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 34

۳۴ مذہب کے نام پرخون اشاعت اسلام پر جبر کا الزام تاریخی شواہد کی روشنی میں گزشتہ باب میں مولانا مودودی کا جو اقتباس نقل کیا گیا ہے (لیکن جب وعظ وتلقین کی ناکامی کے بعد داعی اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی یہ ان کی کتاب الجہاد فی الاسلام سے اخذ کیا گیا ہے۔اس کتاب کے مطالعہ سے انسان بغیر کسی دقت کے اس نتیجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ یہ ایک ایسے شخص کی ذہنی کاوشوں کا نتیجہ ہے جس کا فکر اس کے ذاتی رجحانات اور قلبی کیفیات کا تابع ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل ایک منصف اور قاضی کے طور پر عطا فرمائی ہے جو اس کے جذبات اور علم پر یکساں عدل کو جاری کرتی ہے اور اگر ایک طرف ان دونوں کو ایک دوسرے پر ناجائز دسترس سے باز رکھتی ہے تو دوسری طرف ان کے اندرونی توازن کو بھی قائم کرتی ہے لیکن اگر کسی کی نظر وفکر کا یہ قاضی غلط تربیت کی بناء پر غیر منصف ہو جائے یا آزاد نہ رہ سکے اور خود اپنے ہی جذبات کا غلام ہو کر رہ جائے تو ایسے شخص کی ذہنی دنیا میں ایک انتشار ، لا قانونی اور بدنظمی کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔اگر یہ غیر آزاد یا غیر منصف عقل کسی ایسے شخص میں پائی جائے تو جاہل مطلق ہو یا جذبات سے بالکل عاری ہو تو انسان کو بحیثیت اجتماعی اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوسکتا۔مگر جس قدر بھی ایسے شخص کے پاس علمی موادزیادہ ہو یا جذبات کی فراوانی ہو اسی قدر یہ غلط نتائج اخذ کر کے دنیا کے لئے ایک مصیبت اور ابتلاء کا موجب بن سکتا ہے۔جب یہ قاضی کمزور ہو تو کبھی تو یہ اپنے جذبات کا غلام بن جاتا ہے اور کبھی ظاہری علم کا کبھی تو ایک بھٹکتے ہوئے شاعر یا ایک جنونی کے بھیس میں ظاہر ہوتا ہے کبھی ایک خشک فلسفی یا ایک روحانیت سے عاری عالم کا روپ دھار لیتا ہے اور ان میں سے ہر صورت بنی نوع انسان کے لئے