مذہب کے نام پر خون — Page 289
۲۸۹ مذہب کے نام پرخون جنگیں سائنسی اور صنعتی ترقی کے میدانوں میں نئے تعمیری نظریات کو جنم دینے اور تعمیر و ترقی کی نئی راہیں کھولنے کا موجب بنتی ہیں۔لہذا طویل جنگوں کے نتیجہ میں ترقی یافتہ قومیں بھی مالی کمزوری کا شکار تو ہوتی ہیں لیکن وہ ساتھ کے ساتھ نئے نئے علوم سے مالا مال ہونے کے باعث ایک بہتر مستقبل تعمیر کرنے کی پوزیشن میں ہوتی ہیں۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کے بالمقابل جو قو میں سائنسی اور اقتصادی پسماندگی کا شکار ہونے کے باوجود جنگوں میں کودنے کی عیاشی مول لیتی ہیں انہیں بالکل اور ہی قسم کے حالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ان کے سامنے ایک ہی راستہ ہوتا ہے کہ اپنا سب کچھ بیچ کر داؤ پر لگا دیں۔پھر اسی پر بس نہیں وہ سائنسی اور صنعتی لحاظ سے ترقی یافتہ ملکوں سے جنگی ساز وسامان کی مسلسل بہم رسانی کے سمجھوتے کر کے اپنے مستقبل تک کو ان کے پاس رہن رکھ دیتے ہیں۔اگر پسماندہ قومیں ایک دفعہ جوش میں آنے کے بعد ذرا ہوش سے کام لیں اور اس طرح مکمل تباہی کو خود دعوت نہ دیں تو تیسری دنیا میں لڑی جانے والی کوئی جنگ نہ تو اتنا طول پکڑے جتنا کہ عراق ایران جنگ نے پکڑا اور نہ وہ اتنے تباہ کن اثرات کی حامل ہو جتنی تباہ کن اثرات کی حامل یہ جنگ ثابت ہوئی۔یہ قومیں جنگ کے دوران ایک دوسرے کے خلاف جس وحشت و بربریت کا مظاہرہ کرتی ہیں اور جس کی لپیٹ میں کبھی کبھی دوسرے ملک بھی آجاتے ہیں اس کی ذمہ داری ان قوموں کو بھی قبول کرنی چاہیے جو انہیں ہتھیار اور اسلحہ مہیا کرتے ہیں اور اس طرح جنگ کی آگ کو بھڑکاتے اور اسے طول دینے کا موجب بنتے ہیں۔اب جبکہ عراق ایران جنگ کے بارہ میں سب کچھ کہا اور کیا جا چکا ہے یعنی تمام واجب الا دا قرضوں کا تصفیہ ہو چکا ہے اور تبادلہ کی جانے والی اشیاء کا شمار بھی کر لیا گیا ہے، اس امر پر بھی غور کرنا مناسب ہوگا کہ آخر کار اس جنگی مخاصمت میں فائدہ کس نے اٹھایا اور نقصان میں کون رہا۔یہ تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں کہ اس جنگ کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مغرب میں اسلام کو ایک وحشیانہ مذہب قرار دے کر اس کی مذمت کی جارہی ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ اسلام نعوذ باللہ دہشت گردی کا علمبردار ہے، عدم رواداری اور نفرت کی تعلیم دیتا ہے اور خود اپنے متبعین کو مخالف و متحارب کیمپوں میں تقسیم کر کے انہیں ایک دوسرے کا دشمن ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا دیتا ہے۔خود دو