مذہب کے نام پر خون

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 279 of 330

مذہب کے نام پر خون — Page 279

۲۷۹ مذہب کے نام پرخون بعد بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنا پڑا۔شاہ کا تختہ الٹنے کے بعد انہوں نے نہ صرف سابق شاہ کے تمام حامیوں کو ملیا میٹ کرنے کا بیڑا اٹھایا بلکہ امریکی اثر جہاں جہاں بھی سرایت کر چکا تھا وہ اسے وہاں سے جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے پر تل گئے۔یہ ایک ایسی مہم تھی جو بائیں بازو کے نظریۂ حیات کے لئے تقویت کا موجب ہو سکتی تھی۔اگر اس نظریہ حیات کو پنپنے اور پاؤں جمانے کی مہلت مل جاتی تو اس نظریۂ حیات کے حامیوں کے لئے خمینی کے ہاتھوں سے اقتدار کی باگ ڈور چھینا اور اسلامی نظریہ کی بجائے مارکسزم اور لینن ازم کے جھنڈے گاڑنا چنداں مشکل نہ رہتا۔خوش قسمتی سے خمینی بہت طاقتور اور سمجھدار واقع ہوئے تھے۔انہوں نے اسلامی نظریہ کی دو دھاری تلوار کو دائیں بازو کے امریکی طریہ سیاست کے خلاف ہی نہیں بلکہ بائیں بازو کے روسی نظریہ سیاست کے خلاف بھی بہت مؤثر طور پر استعمال کیا اور بڑی حد تک کامیاب رہے۔یوں تو بہت کچھ کہا اور کیا گیا ہے لیکن یہ امر ظاہر و باہر ہے کہ ایران میں برپا ہونے والے انقلاب میں جس چیز نے رہنمائی کا کام دیا وہ جو کچھ بھی ہوا سے بہر حال اسلام قرار نہیں دیا جاسکتا۔آپ اگر چاہیں تو زیادہ سے زیادہ اسے خمینی ازم کا نام دے سکتے ہیں۔وہ قو تیں جو ایرانی انقلاب میں پس پردہ کارفرما ہیں وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ہر گز بھی مذہبی نہیں ہیں۔یہ سب سیاسی قوتوں کا کیا دھرا ہے جنہوں نے کمال ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے سیاسی مقاصد کے حصول کی غرض سے شاہ کے خلاف ایرانیوں کے رد عمل سے جی بھر کر فائدہ اٹھایا ہے اور خوب خوب ہاتھ رنگے ہیں۔بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں زک اٹھانے اور غلامی کے جال میں پھنسنے کے خلاف ایرانیوں میں جو شعوری جذبہ پیدا ہوتا رہا ہے اس کی تاریخ بہت طویل زمانہ پر پھیلی ہوئی ہے۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ ایرانیوں کی بہت غالب اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔اس امر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ صدیوں پہلے اپنی ارض وطن کے عربوں کے قبضہ میں جانے کے دکھ کو فراموش نہیں کر سکے ہیں اسی لئے اس بارہ میں درگزر سے کام لینے کی طرف وہ مائل نہیں ہیں۔بظاہر تو شکست اور مغلوبیت کے زخم بہت زمانہ پہلے مندمل ہو گئے تھے اور نظر یہی آتا تھا کہ مذہب کے اشتراک اور دوسرے ممالک کے خلاف دشمنی کے مشترکہ جذبہ نے عربوں اور ایرانیوں کے باہم